مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 242 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 242

مضامین بشیر جلد سوم 242 مگر فالج کی ایک ہلکی اور جزوی قسم جسے انگریزی میں پریسز (Paresis) کہتے ہیں قرار دیتے ہیں۔چنانچہ کراچی کے ڈاکٹروں کی تشخیص بھی یہی ہے کہ یہ فالج یعنی (Paralysis) نہیں ہے بلکہ پریسز (Paresis) ہے۔لیکن بعض ڈاکٹر اسے مطلقاً فالج قرار دیتے ہی نہیں۔بلکہ ایک خاص نوع کی اعصابی تکلیف قرار دیتے ہیں جو کثرت کار اور کثرت افکار کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔بہر حال بیماری کی جو بھی نوعیت ہو ہر دو تشخیصوں کے لحاظ سے اس وقت حضور کو آجکل کامل جسمانی اور دماغی سکون کی ضرورت ہے اس لئے دوستوں کو دعاؤں کے علاوہ یہ بھی احتیاط رکھنی چاہئے کہ ان ایام میں حضور کی خدمت میں کوئی ایسا خط یا رپورٹ نہ بھجوائی جائے جو کسی جہت سے فکر اور تشویش پیدا کرنے کا موجب ہو کیونکہ موجودہ حالت کا یہ تقاضا ہے کہ ان ایام میں تمام فکروں اور بوجھوں کو جماعت خود اپنے سر اور کندھوں پر لے لے اور اپنے امام کو ڈاکٹری مشورہ کے مطابق ہر قسم کے فکر اور تشویش سے آزا درہ کر سکون حاصل کرنے کا موقع دے۔امید ہے کہ سب دوست اس پہلو کو خصوصیت کے ساتھ مد نظر رکھ کر حضرت صاحب کی صحت کی بحالی میں عملاً ہاتھ بٹاتے ہوئے عنداللہ ماجور ہوں گے۔اس موقع پر میں احباب کی خدمت میں یہ بات بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ تاریخ اور ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح سے پتہ چلتا ہے ایسے موقعوں پر جب کہ امام کسی دور دراز کے سفر پر ہو بیرون از جماعت مخالفین اور اندرون جماعت منافقین امام کی غیر حاضری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مختلف قسم کے اندرونی اور بیرونی فتنے برپا کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر تبوک کے موقع پر ہوا۔اس لئے احباب جماعت کو عموماً اور امرائے جماعت اور صدر صاحبان کو خصوصاً اس امکانی خطرے کی طرف سے بھی ہوشیار رہنا چاہئے اور اپنے مخصوص اتحاد اور قربانی اور چوکسی اور احساس ذمہ داری اور بیدار مغزی سے ثابت کر دینا چاہئے کہ کوئی اندرونی یا بیرونی خطرہ انہیں خدا کے فضل سے غفلت کی حالت میں نہیں پاسکتا اور نہ ان کے پائے ثبات میں کسی قسم کی لغزش پیدا کر سکتا ہے۔بعض مخالفین ابھی سے حضرت خلیفتہ اسیح الثای ایدہ اللہ نعرہ کے پیش آمدہ سفر کے متعلق بعض جھوٹی اور بے بنیا د افواہیں مشہور کر رہے ہیں بلکہ بعض افواہوں کو تو اخباروں تک میں بھی جگہ دے کر فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس قسم کی افواہوں کے متعلق بھی جماعت کے ذمہ دار طبقہ بلکہ ہر احمدی کو ہوشیار رہنا چاہئے۔جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے حضور کا یہ سفر علاج اور صحت کی غرض سے ہے اور ایسے موقع پر عزیزوں کی