مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 174 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 174

مضامین بشیر جلد سوم 174 لوگ بغیر کسی ظاہری سبب کے غیر معمولی حادثات کا نشانہ بن جاتے ہیں۔گویا ایسے واقعات ایک طبقہ کو دہریت کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔اور دوسرے طبقہ کو تناسخ کے غیر معقول عقیدہ کی طرف کھینچ کر لے جاتے ہیں۔لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ دونوں نتائج بالکل غیر فطری ہیں۔جو محض عقل اور جذبات کے توازن کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔یہ ایک بہت وسیع اور بار یک مضمون ہے۔لیکن افسوس ہے کہ اپنی صحت کی موجودہ حالت میں میں اس کے متعلق زیادہ تفصیل سے نہیں لکھ سکتا۔صرف مختصر طور پر بیان کرتا ہوں کہ یہ سارا دھوکا خدا تعالیٰ کے دو قانونوں کو خلط ملط کرنے سے پیدا ہوتا ہے جنہیں خالق فطرت نے دو علیحدہ علیحدہ قانونوں کی صورت میں جاری کیا ہے۔اور اس کی ازلی حکمت کا تقاضا ہے کہ ان دو قانونوں کو خلط ملط ہونے سے بچایا جائے۔ان میں سے ایک تو شریعت کا قانون ہے۔جو افراد کی نیکی بدی اور ان کے نتائج سے تعلق رکھتا ہے۔اور دوسرا قانون قضا و قدر کا قانون ہے۔جسے قانون نیچر کہتے ہیں۔اس قانون کو لوگوں کی نیکی بدی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔بلکہ وہ نظام عالم کے عام قانون سے تعلق رکھتا ہے۔جس کے ماتحت مثلاً آگ جلاتی ہے۔اور پانی غرق کرتا ہے۔پھر کچلتا ہے اور سکھیا مارتا ہے وغیرہ وغیرہ۔شریعت کے قانون کی جزا سزا کے لئے آخرت یعنی موت کے بعد کی زندگی مقرر ہے۔مگر نیچر کے قانون کی جزا سزا اسی دنیا میں ساتھ ساتھ چلتی ہے۔اور خدا تعالیٰ نے ان دو قانونوں کا الگ الگ دائرہ معین کر رکھا ہے۔شریعت کا قانون نیچر کے قانون میں دخل انداز نہیں ہوتا اور نیچر کا قانون شریعت کے قانون پر کوئی اثر نہیں رکھتا۔بلکہ یہ خدا تعالے کی مرکزی حکومت کے ماتحت گویا دوجدا گانہ صوبے ہیں جو اپنی اپنی جگہ آزادی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور موجودہ اصطلاح کے مطابق کہہ سکتے ہیں کہ ان دو صوبوں کو گویا پرونشل ایٹا نومی حاصل ہے۔کیونکہ وہ خدا کی مرکزی حکومت کے ماتحت ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے الگ الگ دائرہ میں چلتے اور ایک دوسرے کے اثر سے آزاد ہیں۔(سوائے مستثنیات کے جن کے ذکر کی اس جگہ گنجائش نہیں ) مثلا انسان کی نیکی اور بدی اور اس کی دینداری اور بداعمالی شریعت کے قانون سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔اور ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ مثلاً ایک نیک انسان کی نیکی اسے سنکھیا کے اثر سے بچالے۔یا ایک دیندار انسان جو تیرنا نہیں جانتا وہ محض اپنی نیکی کی وجہ سے گہرے پانی میں جا کر ڈوبنے سے بچ جائے۔کیونکہ سنکھیا کا زہریلا اثر یا گہرے پانی کی غرقابی قانونِ نیچر سے تعلق رکھتی ہے۔اور کسی انسان کی نیکی (جس کا تعلق شریعت کے قانون سے ہے ) نیچر کے قانون کے دائرہ میں اس کے کام نہیں آسکتی۔