مضامین بشیر (جلد 3) — Page 173
مضامین بشیر جلد سوم 173 ہاتھ میں ہے جو اپنی ازلی ابدی طاقتوں میں اگر ہمیت ہے تو اس کے ساتھ ساتھ مخی بھی ہے۔اور تاریک گھروں کو روشن کرنا اور خشک کھیتوں کو ہرا کرنا اس کی لا انتہا قدرتوں کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔اسی کی رحمت زخمی دلوں پر مرہم کا بھا یہ رکھ سکتی ہے اور اس کے ہاتھ کا چھینٹائر دہ کھیتوں کو زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔پس ہم اُسی جی و قیوم اور اسی قادر مطلق آقا کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں کہ اگر تیری کسی تقدیر نے مرنے والوں کو مارا ہے تو اب تو ہی اپنی کسی دوسری تقدیر سے پیچھے رہنے والے زندہ درگور لوگوں کو زندگی کی شادابی عطا کر اور ان کی بے چین روحوں کو تسکین دے اور ان کے دلوں پر صبر نازل فرما اور ان کے بوجھوں کے لئے اپنی رحمت کے شہتیروں کا سہارا مہیا کر۔وَبِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيْثُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ فَإِنَّ بذِكْرِكَ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ وَاَنْتَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ - ان حادثات کے نتیجے میں مرنے والوں اور ان کے پسماندگان سے تو میرا خطاب ختم ہوا اور اس سے زیادہ کی مجھ میں طاقت بھی نہیں۔مگر اس قسم کے درد ناک حادثات کے نتیجہ میں جو اثر خام طبیعتوں پر پڑسکتا ہے اور جس قسم کے شبہات میں وہ مبتلا ہو سکتے ہیں۔اس کا ازالہ ابھی باقی ہے۔ظاہر ہے کہ انسان کو خالق فطرت نے دو جو ہروں سے مرکب کیا ہے۔ایک عقل کا جو ہر ہے اور دوسرا جذبات کا جو ہر ہے۔جنہیں انگریزی میں ریزن (Reason) اور سٹیمنٹ (Sentiment) کہتے ہیں۔اور انسان کے اعلیٰ اخلاق اور متوازن تخیل کے لئے ان دونوں کا وجود نہایت ضروری ہے۔مگر بدقسمتی سے بعض لوگ خارجی اثرات کے ماتحت اس فطری توازن کو کھو بیٹھتے ہیں۔وہ یا تو جذبات کے پہلو کو ضائع کر کے عقل کی خشک وادیوں میں سرگردان رہتے ہیں۔اور یا عقل کے جو ہر کو کھو کر جذبات کے طوفان میں تھیڑے کھاتے پھرتے ہیں۔اور ان دونوں باتوں کا نتیجہ ضلالت اور گمراہی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ان میں سے ایک طبقہ پہاڑ کی چٹانوں سے ٹکرا کر اپنا سر پھوڑتا ہے۔اور دوسرا طبقہ جذبات کے سیلاب میں غوطے کھا کھا کر دم تو ڑتا ہے۔چنانچہ اس قسم کے دردناک حادثات کے نتیجہ میں بھی جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے یہی غیر فطری منظر نظر آتا ہے۔کہ خشک عقل کے پجاری لوگ یہ سمجھ کر کہ اگر کوئی خدا ہوتا تو دنیا میں اس قسم کے ظالمانہ واقعات نہ نظر آتے کہ اچانک ایک ہرا بھرا باغ تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔اور ایک ہونہار زندگی کا چراغ بے وقت گل ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔اور دوسری طرف جذبات کی رو میں بہنے والے لوگ ایسے واقعات سے تناسخ یعنی اواگون کے عقیدہ کی طرف جھک جاتے ہیں۔اور خیال کرتے ہیں کہ خدا تو ظالم نہیں ہے۔اس لئے ضرور موجودہ زندگی سے پہلے بھی کوئی اور زندگی گزری ہوگی جس کے نیک و بد اعمال کے نتیجہ میں اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔یعنی بعض