مضامین بشیر (جلد 3) — Page 165
مضامین بشیر جلد سوم 165 تک کے لئے نازل ہوئی ہے جیسا کہ قرآن خود فرماتا ہے۔لِانْذِرَكُمْ بِهِ وَ مَنْ بَلَغَ (الانعام:20) یعنی قرآنی خطاب میں کوئی قومی یا زمانی حد بندی نہیں بلکہ جسے اس کا پیغام پہنچے اور جب پہنچے وہی اس کا مخاطب ہے۔اور یہی وہ مضمون ہے جو ایک نہایت لطیف رنگ میں قرآنی آیت خاتم النبیین میں بیان کیا گیا ہے جس سے یہ مراد ہے کہ پہلی تمام تاریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود میں آکر ختم ہوگئیں اور آئندہ ہر تار آپ کے بابرکت وجود میں سے نکلے گی کیونکہ آپ سلسلۂ رسالت کا مرکزی نقطہ ہیں۔اور ضمناً اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ قرآنی شریعت از لی بھی ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ قرآن ایک منفرد اور جداگانہ حیثیت میں نازل نہیں ہوا بلکہ اس میں خدائی شریعت کا کمال اور معراج مقصود ہے اور وہ یہ کہ ابتداء میں مختلف قوموں اور زمانوں کی محدود ضرورت کے مطابق خدائی شریعت کا نزول شروع ہوا اور پھر آہستہ آہستہ خدائی شریعت قرآن میں آکر اپنے معراج کو پہنچ گئی۔یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لطیف حدیث میں اشارہ فرمایا ہے کہ كُنتُ نَبيَّا وَ آدَمُ مُنْجَدَلٌ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّيْنِ یعنی میں اس وقت سے نبی ہوں جبکہ ابھی آدم گویا اپنی خلقت کے مراحل میں سے گزرتا ہوا پانی اور مٹی میں لت پت تھا۔خلاصہ یہ کہ اولاً قرآنی مضامین ان چار ستونوں پر قائم ہیں جو آیت رَبَّنَا وَابْعَثُ فِيهِمْ رَسُولًا نهُمُ (البقره: 130) میں بیان کئے گئے ہیں اور پھر ثانیا یہ کہ یہ مضامین اس مقصد کے ماتحت نازل کئے گئے ہیں کہ وہ ہر قوم کی زمانی اور مکانی اور قومی حدود سے آزاد ہو کر تمام قوموں اور تمام زمانوں اور تمام ملکوں کی ہدایت کا سامان مہیا کریں اور یقیناً جو شخص ان دو اصولوں کو سامنے رکھ کر پاک نیت کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ کبھی بھی اس کی صحیح تفسیر کے رستہ سے بھٹک نہیں سکتا اور اس کے لئے ہر قرآنی آیت اور ہر قرآنی سورۃ گویا ایک نور کا مینار بن کر دائمی اور عالمگیر روشنی مہیا کرے گی۔وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ (ماہنامہ الفرقان دسمبر 1953ء)