مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 164 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 164

مضامین بشیر جلد سوم حکمتوں کا منبع ہے۔164 یہ وہ عظیم الشان دعا ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہا السلام نے کعبتہ اللہ کی بنیاد رکھتے ہوئے خدا کے حضور کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ أَنَا دَعْوَةِ إِبْرَاهِيمَ یعنی میں ابراہیم کی اس دعا کا ثمرہ ہوں۔پس یقیناً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض و غایت یہی ہے جو اس دعا میں بیان کی گئی ہے جو ذیل کے چار ستونوں پر قائم ہے۔(اول) آیات اللہ کا مظہر ہونا یعنی ایسے نشانات اور ایسے معجزات کے ظہور کا منبع ہونا جو خدا کی طرف رہنمائی کرنے والے اور اس کے قریب لانے والے ہوں۔( دوم ) احکامِ شریعت کا نزول جو انفرادی اور قومی اصلاح کی بنیاد ہیں۔( سوم ) حکمت یعنی احکام شریعت کا فلسفہ اور ان کے دلائل وغیرہ بیان کرنا جس کے بغیر دین میں بصیرت حاصل ہونا محال ہے۔( چهارم ) تزکیہ نفوس یعنی نفوس کو پاک وصاف کر کے مومنوں کو ہر جہت سے ترقی کی منازل کی طرف لے جانا۔یہ وہ چار عظیم الشان اغراض ہیں جو اس دعا میں بیان کی گئی ہیں اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض و غایت انہی چار ستونوں پر قائم ہے اور لازما یہی وہ مربع بندی ہے جس کے ارد گرد تمام قرآنی مضامین گھومتے ہیں۔بیشک قرآن مجید میں ہزاروں مضامین کا دریا بہہ رہا ہے اور ہر دریا سے ہزاروں نہریں پھوٹتی ہیں مگر ان دریاؤں اور نہروں کا منبع انہی چار چشموں کے پانی کا مرہونِ منت ہے اور اگر ضمنا گہری نظر سے دیکھا جائے تو قرآنی آیات کا نزول بھی بحیثیت مجموعی اسی ترتیب کا حامل ہے جو اس آیت میں رکھی گئی ہے۔یعنی اول نمبر پر آیات ہیں۔اس کے بعد دوم اور سوم نمبر پر احکام شرعی اور ان کی حکمت ہے جو گویا ایک دوسرے کے تو ام بھائی ہیں اور بالآخر چہارم نمبر پر تزکیہ کا سامان ہے۔اور گوموجودہ قرآنی ترتیب کو ایک خاص حکمت کے ماتحت نزول کی ترتیب سے بدل دیا گیا ہے جس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں لیکن غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ نزول کی ترتیب اسی آیت کی ترتیب کے اصول پر قائم ہے جو او پر درج کی گئی ہے۔باقی رہا قرآنی احکام کی زمانی وسعت کا سوال سو گو یہ ایک جدا گانہ سوال ہے مگر چونکہ اس سوال کا جواب قرآنی مضامین کی وسعت پر گہرا اثر رکھتا ہے اس لئے اس جگہ اس قدر بیان کر دینے میں حرج نہیں کہ قرآنی شریعت دراصل ابدی ہی نہیں بلکہ ازلی بھی ہے۔ابدی ہونا تو اس کا ظاہر ہے یعنی یہ کہ قرآنی شریعت قیامت