مضامین بشیر (جلد 3) — Page 149
مضامین بشیر جلد سوم 149 رہے ہیں۔یہ ایک نہایت لطیف نفسیاتی نکتہ ہے جو ہماری شریعت نے ہمیں سکھایا ہے۔اور ہر مسلمان باپ اور ہر مسلمان ماں کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے متعلق اپنے تربیتی پروگرام کو اس نکتہ کی روشنی میں مرتب کرے۔دیکھو یہ ایک بہت موٹی سی بات ہے کہ جس مذہب نے یہ تعلیم دی ہے کہ خاوند اور بیوی بچہ کی ولادت سے بھی پہلے آپس میں ملتے ہوئے اپنے ہونے والے بچہ کے متعلق شیطان سے دور رہنے اور خدا کی پناہ میں آنے کی دعا مانگیں۔کیا وہ بچہ کی ولادت کے بعد اسے کئی سال تک تربیت اور اخلاقی نگرانی کے بغیر رہنے دے گا۔هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تَصِفُونَ - قرآن ایمانی اور عملی تربیت کا مکمل ضابطہ ہے اس کے بعد بچہ کی بلا واسطہ تربیت کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔اس کے متعلق یہ سوال کہ بچے کو کیا تربیت دی جائے ایک مسلمان کے لئے طے شدہ سوال ہے۔ہماری ساری تربیت اخلاقی اور روحانی بلکہ ایک حد تک جسمانی اور مالی کا بھی مکمل ضابطہ قرآن شریف میں موجود ہے۔جس کی عملی تفسیر رسول خدا کی سنت اور قولی تشریح احادیث صحیحہ ہیں اور اسی ضابطہ کے احیاء اور تجدید کے لئے ہماری جماعت کے مقدس امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔پس ہمارے لائحہ عمل کا تو کوئی سوال نہیں۔وہ پہلے سے موجود ہے اور اپنے ساتھ ابدی زندگی کی اجارہ داری لے کر آیا ہے۔یہ وہی ضابطہ ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق بیان کرتے ہوئے ہماری مادر مشفق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ خُلُقُ كُلُّهُ القُرآن یعنی آپ کا تمام خلق قرآن تھا اور آپ قرآنی تعلیم کی مجسم تصویر بن کر آئے تھے۔اور اسی کے پیش نظر خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب:22) یعنی اے مسلمانو! تمہارے لئے رسول خدا کی زندگی میں ایک مکمل نمونہ موجود ہے۔پس تربیت کے ضابطہ کی تلاش کا تو کوئی سوال نہیں۔ہاں یہ سوال ضرور ہے کہ بچوں کی تربیت سے تعلق رکھنے والی بہت سی باتوں میں سے کن باتوں کو مقدم کیا جائے۔سو اس کے متعلق میں اپنے اس مختصر مضمون میں صرف ایک قرآنی آیت اور ایک حدیث پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔کیونکہ اس سے زیادہ اس مضمون میں گنجائش نہیں۔قرآن مجید کے بالکل شروع میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنفِقُونَ (البقره: 4-5)