مضامین بشیر (جلد 3) — Page 144
مضامین بشیر جلد سوم 144 ہماری طرف آنے والے ہیں۔اس سے بڑھ کر زخمی دل کے لئے کونسی مرہم ہوگی؟ وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 11 (محررہ 27 اکتوبر 1953ء) (روز نامہ المصلح کراچی 3 نومبر 1953 ء) تربیت اولا د کے دس سنہری گر (جیسا کہ احباب الصلح میں پڑھ چکے ہیں۔حال ہی میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا ایک نہایت قیمتی اور مفید مضمون ”اچھی مائیں اور تربیت اولاد کے دس سنہری گر“ کے عنوان سے بصورت رسالہ شائع ہوا ہے۔حضرت میاں صاحب کا نامِ نامی ہی بتا رہا ہے کہ یہ مضمون کس پایہ کا ہوگا۔اور پھر تربیت اولاد کے متعلق ہر مومن پر جو نازک ذمہ داری بالخصوص موجودہ زمانہ میں عائد ہوتی ہے اس کے پیش نظر تو یہ مضمون یقینا ہر مسلمان گھرانے میں پڑھے جانے کے قابل ہے۔ذیل میں اس رسالہ کا ایک حصہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ اسح ) جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے۔اسلام نے حقوق کے معاملہ میں مرد وعورت کے لئے برابر کا درجہ تسلیم کیا ہے۔اور واضح الفاظ میں اعلان فرمایا ہے کہ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ (البقره: 229) یعنی مردوں کے ذمہ عورتوں کے اسی طرح کے حقوق ہیں جس طرح کہ عورتوں کے ذمہ مردوں کے حقوق ہیں۔لیکن حقوق کے معاملہ کو چھوڑ کر جہاں تک اولاد کی ابتدائی تربیت کا سوال ہے عورت کو اپنے فطری قومی اور اپنے جنسی حالات کی وجہ سے مرد کی نسبت بہت زیادہ ذمہ داری کا مقام حاصل ہے۔بیشک کئی جہات سے مرد کی ذمہ داریاں عورت کی ذمہ داریوں کی نسبت بہت زیادہ بھاری ہیں۔لیکن بچوں کی تربیت کا پہلو اتنا نازک اور اتنا اہم ہے اور اس کا اثر بھی اتنا گہرا اور اتنا وسیع ہے کہ جو عورت اس ذمہ داری کو کامیابی کے ساتھ ادا کرتی ہے۔اس کا وجود یقیناً قوم کے لئے بہت بڑی عزت اور بہت بڑے فخر کا موجب ہے۔اور اس جہت سے ہر قدردان انسان کی عقیدت کے پھول اپنی ماؤں اور بہنوں کے قدموں پر نچھاور ہونے چاہئیں۔