مضامین بشیر (جلد 3) — Page 140
مضامین بشیر جلد سوم 140 فلاں مریض دو دن کے اندر مر جائے گا۔اور پھر یہ مریض واقعی دو دن کے اندر مر بھی جائے (جیسا کہ بعض اوقات ایسے علمی اور فنی اندازے ٹھیک ہو جاتے ہیں ) تو اس صورت میں کو ئی عقلمند انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مریض اس لئے دو دن میں مرگیا ہے کہ ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ وہ دو دن میں مرجائے گا۔بلکہ لازماً یہی کہا جائے گا کہ ڈاکٹر کو اس لئے اس کے مرنے کا علم ہو گیا تھا کہ مریض کے حالات کے ماتحت اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ دو دن میں مرجائے گا۔الغرض مسئلہ تقدیر کے معاملہ میں پہلی بات سمجھنے والی اور یاد رکھنے والی یہی ہے کہ خدائی علم اور خدائی تقدیر کے فرق اور امتیاز کو مدنظر رکھا جائے۔ورنہ قدم قدم پر ٹھوکر لگنے کا احتمال ہے۔(2) دوسری اصولی بات یہ سمجھنے والی ہے کہ تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک تقدیر معلق ہے اور دوسری تقدیر مبرم ہے۔تقدیر معلق تو یہ ہے کہ کسی تقدیر کے ساتھ بعض ظاہر و باطن شرائط وابستہ ہوں۔مثلاً یہ کہ اگر فلاں مریض کا وقت پر صحیح علاج ہو گیا تو وہ بچ جائے گاور نہ مر جائے گا۔(اس جگہ پھر قارئین علم اور تقدیر کے چکر میں نہ پھنس جائیں۔کیونکہ وہ جدا گانہ سوال ہے ) اور دوسری قسم تقدیر کی تقدیر مبرم ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ کسی بات کے ساتھ کوئی شرائط وابستہ نہ ہوں۔بلکہ وہ بہر حال واقعہ ہو جانے والا ہو۔جیسے کہ مطلقاً موت ہے جو بہر حال انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے خواہ جلد ہو یا بدیر۔اور میں نے اپنے سابقہ مضامین میں اس کی مثال یہ دی تھی کہ جہاں موت کا وقت تقدیر معلق ہے۔وہاں خود موت اپنی ذات میں تقدیر مبرم ہے۔یعنی علاج وغیرہ سے اس کا وقت مل سکتا ہے مگر مطلقاً موت کبھی نہیں مل سکتی۔یہی وجہ ہے کہ جن علاقوں میں ملیر یا وغیرہ کی بیماریوں کے جراثیم زیادہ پیدا ہوتے ہیں اور ان کے ازالہ اور انسداد کا کوئی موثر ذریعہ میسر نہیں ہوتا وہاں اموات زیادہ واقع ہوتی ہیں۔لیکن جب ان علاقوں میں ان جراثیم کے مارنے کی تدابیر اختیار کر لی جاتی ہیں تو اموات کی شرح بہت کم ہو جاتی ہے۔اب غور کرنے کی بات ہے کہ اگر علاج کو بے سود سمجھا جائے اور موت کے وقت کو اسی رنگ میں مقدر قرار دیا جائے جس رنگ میں کہ عوام الناس اسے مقدر سمجھتے ہیں تو انسدادی تدابیر کے باوجود ایسے علاقوں میں اموات میں کمی نہیں ہونی چاہئے۔بہر حال یہ وہ دو اصولی باتیں ہیں جو مسئلہ تقدیر کے متعلق یا درکھنی ضروری ہیں۔ان کے علاوہ بعض اور باتیں بھی یادر کھنے والی ہیں۔مگر موجودہ مضمون کے لحاظ سے غالباً یہی دو باتیں کافی ہیں۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہمارے دوست ان دو باتوں کو اچھی طرح سمجھ کر یا د رکھیں گے تو انشاء اللہ وہ اس مسئلہ کی بہت سی الجھنوں سے بچ جائیں گے۔اس کے بعد میں اپنے غیر احمد کی دوست کے سوال کو لیتا ہوں جو اپنے نو جوان بچے کی وفات پر بے چین