مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 135 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 135

مضامین بشیر جلد سوم 135 نہیں مگر سچ فرمائیے کہ کیا ہمارے درمیان عقیدہ اور عمل کے لحاظ سے امور اتحاد زیادہ ہیں یا کہ امور اختلاف؟ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ دیانت داری کے ساتھ خالی الذہن ہو کر اس بات پر غور کریں گے تو آپ کا نور ضمیر آپ کو بتائے گا کہ امور اتحاد کی اتنی کثرت ہے کہ ان کے مقابلہ پر امور اختلاف تعداد کے لحاظ سے شاید ایک یا دو فیصدی سے بھی زیادہ نہیں ہوں گے۔آپ نے لکھا ہے کہ جماعت احمد یہ دوسرے مسلمانوں کے پیچھے نمازیں پڑھنا منع کرتی ہے اور یہ کہ نمازیں غیر مسلموں کے پیچھے ہی منع ہیں۔اسی طرح آپ نے لکھا ہے کہ جماعت احمد یہ دوسرے مسلمانوں کو رشتہ میں لڑکی دینا درست خیال نہیں کرتی اور یہ کہ یہی صورت غیر مسلموں کے ساتھ ہے۔آپ کی اس دلیل میں بھی وہی غلط فہمی (Fallacy) ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہے کہ آپ صرف اختلافی امور پر نظر رکھ رہے ہیں اور میں نے اپنے اس مضمون میں اتحادی امور پر زور دیا ہے۔آپ غور کریں کہ اگر ہماری نمازوں کی قیادت جدا ہے ( یادر ہے کہ نماز کے معاملہ میں صرف قیادت ہی جدا ہے نماز ہرگز جدا نہیں ) اور اگر رشتوں ناتوں میں جزوی علیحدگی ہے تو کیا دوسری طرف ہم تو حید کے قائل نہیں ، کیا ہم خدا کے رسولوں کو نہیں مانتے؟ کیا ہم خدائی کتابوں پر ایمان نہیں لاتے ؟ کیا ہم یوم آخر اور تقدیر خیر وشر کے منکر ہیں؟ کیا ہم سرور کائنات فخر موجودات سید الاولین والآخرین حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کی رسالت اور قرآنی شریعت پر عقیدہ نہیں رکھتے ؟ پھر کیا ہم رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے انکاری ہیں ؟ حَاشَاوَ كَلَّا ثُمَّ حَاشَا وَ كَلَّا کہ ایسا نہیں اور ہرگز ایسا نہیں۔ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دلی یقین اور کامل بصیرت کے ساتھ خاتم النبیین مانتے ہیں۔وَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى مَنْ كَذَبَ۔پھر عمل کے میدان میں غور کیجئے کہ کیا ہم قرآن وحدیث کے ہزاروں احکام میں سے کسی ایک حکم کے بھی منکر ہیں؟ نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ، نکاح ، طلاق ، لین دین، بیع و شرا، معاہدات ، تدبیر منزل، اصول حکومت وغیرہ وغیرہ سینکڑوں میدان ہیں اور ہر میدان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں احکام ہیں۔کیا ان میں سے ہم نے کبھی کسی ایک حکم کا بھی انکار کیا ہے؟ پس جب ہزاروں باتوں میں اتحاد کی صورت موجود ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم دونوں کی شریعت ایک ہے۔یعنی قرآن مجید جس کے متعلق ہمارے امام نے فرمایا ہے کہ دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے