مضامین بشیر (جلد 3) — Page 134
مضامین بشیر جلد سوم 134 ہوں۔البتہ اگر آپ کا اصرار ہوا تو یہ جواب اخبار میں بھی شائع کر دیا جائے گا۔وَ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَاتِ اصل امر زیر بحث کے متعلق اگر آپ غور فرمائیں تو میرے اور آپ کے اختلاف کا نچوڑ اس مختصر سی بات میں آ جاتا ہے کہ میں جماعت احمدیہ اور دوسرے مسلمانوں کے اتحادی امور (Points of agreement) پر زور دے رہا ہوں۔اور آپ اختلافی امور (Points of difference) پر نظر رکھتے ہیں۔عزیز من! اس بات سے کس نے انکار کیا ہے کہ ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں بعض امور میں اختلاف ہے۔حتی کہ میرا موجودہ مضمون جو آپ کے زیر اعتراض ہے اس میں بھی میں نے ہر فرقہ کی مخصوص ” چاردیواری“ کا فلسفہ بیان کیا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ چار دیواری“ بہر حال بعض امور میں اختلاف کی متقاضی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے یہ اعتقادات قرآن و حدیث سے باہر جا کر ان کی تعلیمات سے انحراف کر کے قائم کئے ہیں یا کہ ہم نے قرآن و حدیث سے ہی استدلال کیا ہے؟ اگر ہمارا استدلال قرآن وحدیث پر مبنی ہے تو آپ ہمیں غلطی خوردہ تو کہہ سکتے ہیں مگر اسلام کا دشمن قرار نہیں دے سکتے اور نہ ہمیں مسلمانوں سے کٹ جانے والا قرار دے سکتے ہیں۔ہم نے اس بات سے بھی انکار نہیں کیا کہ ہم دوسرے مسلمانوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے یا یہ کہ ہم اپنی لڑکیاں ان کے نکاح میں دینا درست نہیں سمجھتے۔وغیرہ ذالک۔لیکن خدا کے لئے آپ غور کریں کہ کیا یہی تفریق کم و بیش دوسرے مسلمان فرقوں میں قائم نہیں ہے؟ کیا آپ کے ہاں عید اور جمعہ کی نماز سب فرقے ایک امام کے پیچھے پڑھتے ہیں؟ کیا عید کے موقع پر شاہی مسجد اور منٹو پارک اور دیگر مساجد کے نظارے آپ بھول گئے کہ جہاں ہر فرقہ اپنی اپنی جداگانہ نماز ادا کرتا ہے پھر کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں کہ سنی حضرات شیعہ حضرات کو رشتہ نہیں دیتے اور شیعہ حضرات سنی حضرات کو رشتہ نہیں دیتے ؟ صرف فرق یہ ہے کہ ہم ایک زندہ اور فعال مذہبی جماعت ہونے کی وجہ سے اپنے سب معاملات میں مذہبی پہلو کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔اور ان امور میں جماعت کی نگرانی رکھتے ہیں۔مگر باقی فرقے مذہب سے دور جا کر اور دین سے غافل ہو کر دل میں تو ان باتوں کا عقیدہ رکھتے ہیں مگر عملاً ان باتوں میں زیادہ سخت نگرانی نہیں کرتے۔اور سہل انگاری سے کام لیتے ہیں اس کے سوا کوئی فرق نہیں۔پھر مسلمانوں کے مختلف فرقوں کا ایک دوسرے کو کافر قرار دینا بھی ایک معروف اور کھلی ہوئی حقیقت ہے جسے مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے۔اصل بات یہی ہے کہ میں نے یہ مضمون جس پر آپ کو اعتراض پیدا ہوا ہے، امور اتحاد کو سامنے رکھ کر لکھا ہے۔اور آپ اپنے خط میں امور اختلاف پر زور دے رہے ہیں۔میں امور اختلاف سے ہرگز انکاری