مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 114 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 114

مضامین بشیر جلد سوم 114 دولت کو کھلے میدان میں لانے کی تلقین لا سوال ہو سکتا ہے کہ اسلام کا تمدنی نظریہ بھی ٹھیک اور دولت کے قدرتی وسائل کے متعلق اس کی تعلیم بھی بجا۔لیکن اس بات کا کیا علاج ہے کہ اگر انفرادی قومی اور انفرادی جد و جہد کے نتیجہ میں دولت کا توازن ناگوار صورت اختیار کرلے تو پھر اس توازن کو درست کرنے اور درست رکھنے کے لئے کیا صورت کی جائے؟ سو اس خطرہ کی طرف سے بھی اسلام غافل نہیں۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے:۔وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَبَشِّرُهُمُ بِعَذَابٍ أَلِيم۔۔۔۔۔هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِانْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْذِرُونَ (التوبه: 34-35) یعنی جولوگ سونے چاندی کے مالوں کو بند خزانوں کی صورت میں جمع کر کے رکھتے ہیں۔اور انہیں خدا کے مقرر کردہ رستوں میں خرچ نہیں کرتے۔تو اے رسول! تم ایسے لوگوں کو خدا کے دردناک عذاب کی خبر دو۔ان کے لئے ان ہی بند خزانوں کو عذاب کا آلہ بنا دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ اب اپنے ان خزانوں کا مزا چکھو جنہیں تم نے صرف اپنی جانوں اور اپنے عزیزوں کے لئے روک رکھا تھا۔اس سنہری تعلیم کے ذریعہ اسلام نے دولت کو کھلے میدان میں لانے اور ایک طرف غریبوں اور مسکینوں کی امداد پر بلا واسطہ خرچ کرنے اور دوسری طرف دولت کو تجارتوں اور صنعتوں میں لگا کر عوام کو بالواسطہ فائدہ پہنچانے کا رستہ کھولا ہے۔اور ایک زبر دست اختباہ کے ذریعہ لوگوں کو ہوشیار کیا ہے کہ اگر تم نے اپنے خزانوں کو بند کر کے رکھا اور انہیں ملک وقوم کی بہتری کے لئے خرچ نہ کیا۔تو یہی بند خزا نے تمہارے لئے ایک زمانہ میں درد ناک عذاب بن جائیں گے۔اور اس دردناک عذاب میں صرف آخرت کے عذاب کی طرف ہی اشارہ نہیں ہے۔بلکہ جیسا کہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے موجودہ زمانہ کی اس ہیبت ناک کشمکش کی طرف بھی اشارہ ہے جس میں مزدور سرمایہ دار کے خلاف اور مزارع مالک کے خلاف اٹھ کر ان کی زندگی کی شیرینی کو تلخ اور ان کے دل و دماغ کے سکون کو برباد کر رہا ہے۔اسلام کا قانونِ ورثہ لیکن اسلام نے اس معاملہ میں صرف اصولی تحریک پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قومی اور ملکی دولت کو مناسب رنگ میں سمونے کے لئے ایک مؤثر مشینری بھی قائم کی ہے اور اس مشینری کو چالور کھنے کے لئے بہت سے معین احکام صادر فرمائے ہیں۔ان احکام میں سے ایک حکم قانونِ ورثہ سے تعلق رکھتا ہے۔یہ ایک نہایت