مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 113 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 113

مضامین بشیر جلد سوم 113 سب نے بلا استثناء اپنے اصولوں کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا ہے۔اور ان اصولوں کی تبلیغ میں بھی کبھی کوئی راز داری نہیں برتی۔تو پھر سوچنے کا مقام ہے کہ اشتراکیت میں یہ راز داری کیوں ہے؟ کمیونزم کے متاع کو دنیا کی کھلی منڈی میں کیوں نہیں لایا جاتا ؟ اشترا کی ممالک میں دوسرے خیالات اور نظریات کی پُر امن تبلیغ و اشاعت کو کیوں روکا جاتا ہے؟ اسلام کی عالمگیر مساوات اب میں اسلامی نظریہ کی طرف آتا ہوں۔اصولی طور پر پہلے نوٹوں میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ اگر ایک طرف اسلام دنیا کے سامانوں اور دولت پیدا کرنے کے قدرتی ذرائع میں سب بنی نوع انسان کا مساویانہ حق تسلیم کرتا ہے اور ان ذرائع کو کسی خاص قوم یا پارٹی کی اجارہ داری قرار نہیں دیتا۔وہاں دوسری طرف وہ عملاً دولت کے اس تفاوت کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔جو افراد کے ذاتی قومی اور ذاتی جدوجہد کے نتیجہ میں طبعی طور پر پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ انسانی مساوات میں سب سے پہلا اور سب سے مقدم سوال دولت کی تقسیم کا نہیں بلکہ انسان کی نسلی اور شخصی مساوات کا ہے۔کیونکہ دراصل یہی وہ میدان ہے جس میں جذباتی کشمکش اور سماجی خلیج پیدا ہو کر سب سے زیادہ فتنہ کا راستہ کھولتی ہے۔اور سوسائٹی کے مختلف طبقات ایک دوسرے کے مقابل پر رقیبانہ کیمپ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔سو اس کے متعلق مقدس بانی اسلام صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاءُ كُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِي عَلَى عَجَمِي وَلَا لِعَجَمِيٌّ عَلَى عَرَبِي وَلَا لِاَحْمَرٍ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا لِاسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى ( مسند احمد بن حنبل) یعنی اے لوگو! کان کھول کر سن لو کہ تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک تھا۔اور پھر کان کھول کر سن لو کہ عربوں کو عجمیوں پر کوئی فضیلت نہیں۔اور نہ عجمیوں کو عربوں پر کوئی فضیلت ہے۔اور نہ گوروں کو کالوں پر کوئی فضیلت ہے اور نہ کالوں کو گوروں پر کوئی فضیلت ہے۔سوائے ایسی ذاتی خوبی اور ذاتی نیکی کے جس کے ذریعہ کوئی شخص دوسروں سے آگے نکل جائے۔یہ نظریہ اسلامی مساوات کا بنیادی پتھر ہے۔جس میں سب اقوام عالم کو بلا استثناء ایک سطح پر کھڑا کر دیا گیا ہے کہ اب جو شخص چاہے اپنے ذاتی اوصاف اور انفرادی جدو جہد کے زور سے آگے نکل جائے۔