مضامین بشیر (جلد 2) — Page 981
۹۸۱ مضامین بشیر کے طور پر بیان فرمائی غیر مبرح کے الفاظ قابل غور ہیں۔اس سے عربی محاورہ کے مطابق ایسی جسمانی سزا مراد ہے جو زیادہ تکلیف دینے والی اور جسم پر نشان ڈالنے والی نہ ہو۔چنانچہ عربی محاورہ ہے کہ فَعلَ كَذا بَرَاحاً اے صراحاً لا يستر جس کے یہ معنی ہیں کہ اس نے فلاں کام کھلے طور پر کیا جبکہ کوئی پردہ حائل نہیں تھا ( مفردات راغب ) نیز کہتے ہیں کہ جـاء بـالـكـفـر براحا یعنی اس کی طرف سے کھلا کھلا کفر ظاہر ہوا۔اور برح به الامر کے معنی ہیں کہ اتعبه و اذاه اذی شديداً یعنی اس بات نے اسے کوفت میں ڈال کر بہت دکھ پہنچایا “۔(اقرب الموارد) اور جب ضرباً غير مبرح کے الفاظ استعمال کئے جائیں تو اس کے معنی ہوتے ہیں غیر شاق ” یعنے ایسی مار جو دوسرے کو زیادہ تکلیف میں نہ ڈالے اور نہ ہی زیادہ تکلیف کا موجب ہوا اور ضمناً اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ سزا بچوں اور نوکروں یا دوسرے لوگوں کے سامنے نہیں دینی چاہئیے بلکہ علیحدگی میں دینی چاہئیے۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چا زاد بھائی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ یہ جو آنحضرت صلعم نے فرمایا ہے کہ ضــر بــا غـيــر مبرح اس سے مراد کس قسم کی سزا ہے؟ تو آپ نے فرمایا : بالسواك ونحوه ۱۱۸ د یعنی یہی مسواک یا اسی قسم کی دوسری چیز سے مارنا۔“ اس سے یہ استدلال ہوتا ہے کہ صحابہ کرام جو شریعت کے پہلے حامل تھے ، ضرب کے متعلق قرآنی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا کیا مطلب سمجھتے تھے۔پھر مارنے کی سختی کو روکنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس لطیف انداز میں فرماتے ہیں کہ : ايضرب احدكم امراته كما يضرب العبد ثم يجامعها في آخر اليوم د یعنی کیا عورتوں کو مارنے والے اس بات سے شرم محسوس نہیں کرتے کہ وہ اپنی بیویوں کو اس طرح ماریں جس طرح کہ ظالم لوگ غلاموں کو مارتے ہیں اور پھر شام ہونے پر انہی بیویوں کے بستروں کی راہ ڈھونڈیں؟“ اور دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ : ۱۲۰ لا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر الا في البيت دو یعنی زنہا ر عورت کو کبھی منہ پر نہ مارو اور نہ اسے کبھی گالی دو اور اگر کبھی سزا کے طور پر عملی علیحدگی اختیار کرو تو ایسی علیحدگی لازما گھر کے اندر ہی ہونی چاہئیے۔