مضامین بشیر (جلد 2) — Page 968
مضامین بشیر ۹۶۸ برطانیہ میں تعدد ازدواج کی طرف رجوع رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِينَ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِينَ ) د یعنی اسلام کی تعلیم اور اس کے ساتھ ترقی کے وعدے ایسے ہیں کہ بسا اوقات کا فرلوگ بھی یہ خواہش کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے۔اس عظیم الشان پیش گوئی کی صداقت پر تاریخ عالم نے بے شمار دفعہ مہر تصدیق ثبت کی اور انشاء اللہ قیامت تک کسی نہ کسی رنگ میں اس کا ظہور ہوتا چلا جائے گا۔جب کبھی بھی مسلمانوں کو کوئی غیر معمولی کامیابی اور ترقی نصیب ہوئی اور دنیا جانتی تھی کہ یہ کامیابی اور یہ ترقی ان وعدوں کے مطابق ہے جو قرآن میں نہایت زور شور کے ساتھ کئے گئے ہیں تو اس وقت لازما مسلمان علاقوں کے قریب رہنے والے کافروں میں اسلام کی طرف غیر معمولی توجہ اور حرکت پیدا ہوئی جو اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ ان کفار کے دلوں میں لَوْ كَانُوا مُسْلِمِینَ کا جذبہ موجزن ہو رہا ہے اور وہ بھی ان ترقیات میں حصہ دار بننا چاہتے ہیں جو خدا نے مسلمانوں کے لئے مقدر کر رکھی ہیں اور بعض اقوام اور افراد نے تو قولاً بھی اس بات کا اظہار کیا کہ اسلام ایک نہ ختم ہونے والی ترقی کی طاقت لے کر پیدا ہوا ہے۔یہ لو كَانُوا مُسْلِمِینَ کے فطری نعرہ کا ایک پہلو تھا جو تاریخ نے دیکھا۔دوسری طرف اس بات کی مثالیں بھی کثرت کے ساتھ ملتی ہیں کہ بسا اوقات کفار نے اسلام کی تعلیم سے متاثر ہو کر اس بات کا اظہار کیا کہ اسلام کی فلاں تعلیم ایسی ہے کہ کاش وہ ہم میں بھی ہوتی۔اسلام کی اخوت کی تعلیم۔اسلام میں انسانی مساوات کی تعلیم۔اسلام میں جوئے کی حرمت۔اسلام میں شراب کی حرمت۔اسلام میں قتل کی سزائے موت۔اسلام میں جمہوریت کا نظام۔اسلام میں طلاق کا قانون وغیرہ وغیرہ بے شمار ایسی باتیں ہیں جن کے متعلق کبھی کوئی قوم اور کبھی کوئی قوم حسرت کے ساتھ اس بات کا اظہار کر چکی ہے کہ کاش یہ تعلیم ان میں بھی ہوتی جس کے دوسرے الفاظ میں یہی معنی ہیں کہ لَوْ كَانُوا مُسْلِمِینَ۔فطرت انسانی کا یہ نعرہ کہ کاش ہم بھی اس تعلیم کو ماننے والے ہوتے، کبھی تو عمل کے ذریعہ ظاہر ہوا ہے اور کبھی قول کے ذریعہ ظاہر ہوا ہے مگر بہر حال وہ اس گہری حسرت کا علمبردار ہے جو ایک پاک اور فطری تعلیم کو دیکھ کر ایک محروم فرد یا محروم قوم کے