مضامین بشیر (جلد 2) — Page 967
۹۶۷ مضامین بشیر جائیں بلکہ اعمال کی اندرونی حکمت کی طرف بھی توجہ دیں اور اسے ہمیشہ اپنی نظروں کے سامنے رکھیں مگر جیسا کہ دوسری آیت میں صراحت کی گئی ہے اس سے یہ استدلال کرنا ہرگز جائز نہیں کہ شریعت کے مقرر کردہ اعمال کی ظاہری صورت کو ترک کیا جا سکتا ہے۔کیا اس وجہ سے کہ نماز کی اصل روح قرب الہی اور منکرات سے تحفظ ہے ، نماز کے ظاہری ارکان یعنی قیام رکوع اور سجود وغیرہ کو چھوڑا جا سکتا ہے؟ اور کیا اس وجہ سے کہ روزہ کی اصل روح تبتل الی اللہ اور لذات دنیوی سے بے رغبتی پیدا کرنا ہے، روزہ کی ظاہری شکل وصورت یعنی سحری کا کھانا اور دن کے اوقات میں اکل وشرب سے اجتناب اور شام کی افطاری کو ترک کیا جا سکتا ہے؟ اور پھر کیا اس وجہ سے کہ حج کی اصل روح مسلمانوں میں مرکزیت اور اجتماعیت کا احساس پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی خاطر ایثار کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔حج کے ظاہری مناسک یعنی بیت اللہ کا طواف اور عرفہ کے وقوف وغیرہ کو چھوڑا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہر گز نہیں اور کوئی عالم دین ایسا فتوی دینے کی جرات نہیں کر سکتا تو پھر اگر اسی حکمت کے ماتحت قرآن نے قربانیوں کی ظاہری صورت کے علاوہ ان کی اندرونی روح کی طرف بھی توجہ دلائی تو اس کی وجہ سے قربانی کے ظاہری مناسک کو کس طرح ترک کیا جا سکتا ہے؟ اس ملحدانہ نظریہ کو قبول کرنے سے تو شریعت کا سارا ڈھانچہ ہی درہم برہم ہو جاتا ہے اور نہ نماز رہتی ہے اور نہ روزہ اور نہ حج اور نہ کوئی اور عبادت - فافهم و تدبر ولا تكن ولا تكونوا والممترين۔( مطبوعہ الفضل ۹ ستمبر ۱۹۵۰ء )