مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 86 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 86

مضامین بشیر ۸۶ آبادی کی تقسیم بہتر ہو جائے گی۔لیکن دراصل یہ بھی ایک خطر ناک دھوکہ ہے۔اور جو جذ بہ اس مطالبہ کی تہہ میں کام کر رہا ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ اس ذریعہ سے ہندو اور سکھ آبادی کو مسلمانوں کے علاقہ سے باہر نکال لیا جائے ، اور ظاہر ہے کہ یہ جذبہ ملک کے مجموعی حالات کو دیکھتے ہوئے کسی طرح انصاف و دیانت داری کا جذ بہ نہیں سمجھا جا سکتا۔جب مسلمان اپنے کروڑوں بھائی ہندوؤں کے ہندو صوبوں میں چھوڑ رہے ہیں۔( مثلا یو پی میں ۸۴ لاکھ۔بہار میں ۴۷ لاکھ۔مدراس میں ۳۹ لاکھ اور بمبئی میں ۱۹ لاکھ وغیرہ وغیرہ) تو ہندوؤں کو مسلم اکثریت والے علاقہ میں اپنے چند لاکھ ہم مذہبوں کو چھوڑتے ہوئے بے چینی اور بے اعتمادی کیوں لاحق ہوتی ہے۔خصوصاً جب کہ انہیں بہت سے دوسرے صوبوں میں بہترین وطن اور کامل اقتدار حاصل ہو رہا ہے۔اور اگر ان کا منشاء یہ ہے کہ مسلمانوں سے مکمل جدائی کر لیں اور ملک کے کسی حصہ میں بھی اشتراک نہ رہے تو اس صورت میں ضروری ہوگا کہ وہ ان مسلمان آبادیوں کی علیحدگی کا بھی انتظام کریں جو ہند وصوبوں میں محصور پڑی ہیں۔آخر کیا وجہ ہے کہ کمشنری انبالہ کے ہندوؤں کو تو مسلمان صوبہ سے علیحدہ کر کے بزعم خود محفوظ کر لیا جائے۔مگر یو۔پی اور بہار وغیرہ کے کثیر التعداد مسلمان ہندوؤں کے رحم پر پڑے رہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ کمشنری انبالہ کے ہندو ایک مخصوص علاقہ میں آباد ہیں۔جہاں ان کی اکثریت ہے مگر اس کے مقابل پر یو۔پی اور بہار کے مسلمانوں کو ان صوبوں کے کسی حصہ میں بھی اکثریت حاصل نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس اصول پر کام کرنا ہے کہ مختلف قوموں کی آبادیاں لازماً جدا ہو کر آزادی کا حق حاصل کریں تو پھر کسی خاص علاقہ میں اکثریت ہونے یا نہ ہونے کا سوال باقی نہیں رہتا۔بلکہ جہاں جہاں بھی کسی خاص قوم کی معقول تعداد پائی جائے۔اس کی علیحدگی اور حفاظت کا انتظام ہونا چاہئے۔اگر یو۔پی اور بہار کے مسلمان ایک جگہ آباد نہیں ہیں تو ان صوبوں کی ہند و حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ انہیں ایک جگہ آباد کرنے کا انتظام کریں۔تا ایک مخصوص علاقہ میں انہیں اپنی حکومت حاصل ہو سکے۔لیکن اگر ہند و قوم ایسا نہیں کر سکتی۔یا نہیں کرنا چاہتی تو پھر انہیں کیا حق ہے کہ انبالہ ڈویژن اور کلکتہ وغیرہ کی علیحدگی کا مطالبہ کریں۔یہ تو وہی بات ہوئی کہ میٹھا میٹھا ہڑپ ہڑپ اور کر واکر واتھو۔الغرض انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ یا تو صوبوں کی طبعی حدود قائم رکھی جائیں اور ہر صوبہ میں اقلیت والی قوم اکثریت والی قوم کے ساتھ تعاون کرے اور یا اگر قوم وار تقسیم کی وجہ سے صوبوں کی حدود کو توڑنا ہے تو پھر ہر صوبہ میں مختلف قوموں کی آبادیوں کو اکٹھا کر کے سارے صوبوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے۔یہ ایک بالکل موٹی سی بات ہے کہ جس صوبے میں کسی قوم کی اکثریت ہے۔اسے اس صوبہ میں حکومت کا حق ہونا چاہئے۔اب اس پر منطقی دائرے کھینچ کھینچ کر بعض اضلاع کو اس بناء پر الگ کرنے کی کوشش کرنا کہ ان میں دوسری قوم کی اکثریت ہے۔ایک بالکل فضول بات ہے کیونکہ اصل بنیاد یونٹوں کی تقسیم پر ہے نہ کہ قوموں کی تقسیم پر اور