مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 85 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 85

۸۵ مضامین بشیر تعلیم وغیرہ کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط اور پیوست ہیں کہ کسی غیر متعصب شخص کے نز دیک پنجاب کی تقسیم کا سوال اٹھ ہی نہیں سکتا۔پنجم۔پنجاب کی تقسیم کا سوال اس لحاظ سے بھی بالکل غیر طبعی ہے کہ اگر یہ کسی حقیقت پر مبنی ہوتا تو آج کی فرقہ وارانہ کش مکش سے قبل بھی اسے ہندوؤں یا سکھوں وغیرہ کی طرف سے اٹھایا جاتا۔خصوصا جس زمانہ میں کہ سندھ کو بمبئی سے اور اڑیسہ کو بہار وغیرہ سے علیحدہ کرنے کا سوال پیدا ہوا تھا۔اس وقت پنجاب کی تقسیم کا سوال بھی اٹھایا جاتا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ پنجاب کی تقسیم کا سوال کسی طبعی اور فطری تقاضے پر مبنی نہیں ہے بلکہ محض مسلمانوں کی مخالفت میں غیر طبعی اور مصنوعی طریق پر اٹھایا جا رہا ہے۔ششم : تقسیم پنجاب کا مطالبہ اس لحاظ سے بھی قابل رڈ بلکہ حقیقۂ قابل نفرت ہے کہ وہ کسی جہت سے بھی صداقت اور دیانت داری کے جذبہ پر مبنی نہیں ہے۔یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ جب تک ہندوؤں کے دل میں اکھنڈ ہندوستان کی امید قائم تھی انہوں نے اکھنڈ ہندوستان کی تائید اور پاکستان کی مخالفت میں اپنا پورا زور لگایا۔لیکن جونہی کہ اکھنڈ ہندوستان کی امید ٹوٹتی نظر آئی انہوں نے جھٹ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا سوال کھڑا کر دیا۔جس کا یہ صاف مطلب ہے کہ دراصل وہ ہر صورت میں ہند وحکومت کے خواہاں ہیں۔یعنی ان کا دلی منشاء یہ ہے کہ اول تو مسلمان ہند و حکومت کے تابع رہیں۔اور اگر ایسا ہونا ممکن نہ ہو تو پھر ہندوؤں کو مسلمانوں کی حکومت سے علیحدہ کر کے اپنی قوم کی طاقت اور اقتدار کو بڑھایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ جب تک انہیں ایک واحد مرکزی حکومت کے دباؤ کی وجہ سے پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو اپنی ایڑی کے نیچے رکھنے کی صورت نظر آرہی تھی۔انہوں نے بڑے زورشور سے اکھنڈ ہندوستان کا مطالبہ جاری رکھا۔لیکن جونہی کہ اکھنڈ ہندوستان کا قلعہ جس کی چار دیواری کے اندر وہ مسلمانوں کو اپنے زیر قبضہ رکھ سکتے تھے ، گرتا ہوا نظر آیا تو انہوں نے ہند و حکومت کو دوسرے طریق پر وسیع اور مستحکم کرنے کے لئے فوراً پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا سوال کھڑا کر دیا۔تا اس ذریعہ سے ایک طرف تو ہند و آبادی کو زیادہ سے زیادہ مسلمان حکومت سے علیحدہ کر لیں۔اور دوسری طرف جہاں تک ممکن ہو ، سکھ قوم کو اپنی حکومت کے ماتحت لے آئیں اور آہستہ آہستہ ان کی علیحدہ ہستی کو مٹادیں اور تیسری طرف تا حد امکان پاکستان کو کمزور کر دیں۔یہ واضح حقائق صاف بتا رہے ہیں کہ دراصل ہندوؤں کے یہ دونوں مطالبے یعنی اولاً اکھنڈ ہندوستان کا مطالبہ اور بعدۂ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا مطالبہ خالصہ اور کلیۂ فرقہ وارانہ ذہنیت کا کرشمہ ہیں اور نیشنلسٹ جذ بہ کا ادعا دکھاوے اور نمائش کے سوا کچھ نہیں۔ہفتم تقسیم پنجاب کی تائید میں بعض اوقات یہ دلیل بھی پیش کی جاتی ہے کہ اس طرح صوبہ میں قوم وار