مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 81 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 81

ΔΙ مضامین بشیر زندگی رکھنے والے اور فیاض جذبات کے مالک اور قدیم مہمان نوازی کے اصولوں پر قائم ہیں اور اس کے مقابل پر ہند و تمدن اس سے بالکل مختلف ہے۔تیسرے اقتصادی نقطہ نگاہ کے لحاظ سے بھی مسلمان اور سکھ ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب ہیں۔کیونکہ دونوں کی اقتصادیات کا اسی فی صدی حصہ وہ محاصلِ اراضی اور فوجی پیشے اور ہاتھ کی مزدوری سے تعلق رکھتا ہے۔میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایک سکھ اور مسلمان زمیندار آپس میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ گویا وہ ایک ہی ہیں۔مگر یہ ذہنی اور قلبی اتحاد ایک ہند وا اور سکھ کو نصیب نہیں ہوتا :- پس میں اپنے سکھ ہم وطنوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ گزشتہ واقعات کو بھلا کر اپنے مستقل اور فطری مفاد کی طرف توجہ دیں۔دیکھو ہر زخم کے لئے خدا نے ایک مرہم پیدا کی ہے اور قومی زخم بھی بھلانے سے بھلائے جا سکتے ہیں۔مگر غیر فطری جوڑ کبھی بھی پائیدار ثابت نہیں ہوا کرتے۔اگر ایک آم کے درخت کی شاخ نے دوسرے آم کی شاخ کے ساتھ ٹکرا کر اُسے توڑا ہے تو بے شک یہ ایک زخم ہے جسے مرہم کی ضرورت ہے مگر یہ حقیقت پھر بھی قائم رہے گی کہ جہاں پیوند کا سوال ہوگا ، آم کا پیوند آم کے ساتھ ہی قائم ہوگا۔دولڑنے والے بھائی لڑائی کے باوجود بھی بھائی رہتے ہیں۔مگر دو غیر آدمی عارضی دوستی کے باوجود بھی ایک نہیں سمجھے جا سکتے۔ہم ہندوؤں کے بھی خلاف نہیں۔وہ بھی آخر اسی مادر وطن کے فرزند ہیں اور بہت سی باتوں میں اُن سے بھی ہمارا اشتراک ہے اور ہماری دلی خواہش تھی کہ کاش ہندوستان بھی ایک رہ سکتا۔لیکن اگر ہندوستان کو مجبور ابٹنا پڑا ہے تو کم از کم پنجاب تو تقسیم ہونے سے بچ جائے تا اسے مسلمان بھی اپنا کہہ سکیں اور سکھ بھی اس کے اندر بسنے والے ہندو بھی۔اور شائد پنجاب کا خمیر آئیندہ چل کر ہندوستان کو بھی باہم ملا کر ایک کر دے۔لیکن جب تک یہ بات میسر نہیں آتی اس وقت تک کم از کم مسلمان اور سکھ تو ایک ہو کر رہیں۔یہ جذ بہ خود سمجھدار سکھ لیڈروں میں بھی پیدا ہوتا رہا ہے۔چنانچہ گیانی شیر سنگھ صاحب فرماتے ہیں۔دو شمالی ہندوستان کے امن کی ضمانت سکھ مسلم اتحاد ہے اور اگر کوئی شخص سکھ مسلم فساد کے زہر کا بیج ہوتا ہے تو وہ ملک کا اور خدا کا اور نسل انسانی کا دشمن ہے۔۔۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہندو کو ہندوستان کے باقی صوبوں میں وطن مل رہا ہے اور مسلمان کو پنجاب وغیرہ میں۔کیا اچھا ہوتا کہ سکھ بھی اتنی تعداد میں ہوتا اور اس صورت میں آباد ہوتا کہ اُسے بھی ایک وطن مل جاتا۔لیکن افسوس ہے کہ موجودہ حالات میں اس کمی کا ازالہ کسی کے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ پنجاب کو خواہ کسی صورت میں بانٹا جائے ،سکھ بہر حال اقلیت میں رہتا ہے بلکہ