مضامین بشیر (جلد 2) — Page 80
مضامین بشیر وو ۸۰ قیامت برپا نہیں کی تھی۔جس کی تباہی اور قتل و غارت کو نہ پنجاب پہنچ سکتا ہے اور نہ نوا کھلی یا کوئی اور علاقہ۔پس اگر گلے شکوے کرنے لگو تو دونوں قوموں کی زبانیں کھل سکتی ہیں۔لیکن اگر ملک کی بہتری کی خاطر ” معاف کر دو اور بھول جاؤ کی پالیسی اختیار کرنا چاہو تو اس کے لئے بھی دونوں قوموں کے لئے اچھے اخلاق کے مظاہرہ کا رستہ کھلا ہے۔میں تو شروع ہی سے اپنے دوستوں سے کہتا آیا ہوں کہ موجودہ فسادات کا سلسلہ ایک دور سوء vicious circle کا رنگ رکھتا ہے۔احمد آباد کے بعد کلکتہ اور کلکتہ کے بعد نو ا کھلی اور نوا کھلی کے بعد بہار اور گڑھ مکتیر اور بہار اور گڑھ مکستر کے بعد پنجاب و سرحد اور اس کے بعد خدا جانے کس کس کی باری آنے والی ہے۔اور جب تک کوئی قوم جرات کے ساتھ اس زنجیر کی کسی کڑی کو درمیان سے تو ڑ نہیں دے گی۔اس آگ کا ایک شعلہ دوسرے شعلے کو روشن کرتا جائے گا۔جب تک یا تو یہ دونوں قو میں آپس میں لڑ لڑ کر تباہ ہو جائیں گی اور یا قتل و غارت سے تھک کر انسان بننا سیکھ لیں گی۔انتقام کی کڑی ہمیشہ صرف جرات کے ساتھ اور عفو اور درگزر کے عزم کے نتیجہ میں ہی توڑی جاسکتی ہے۔ورنہ یہ ایک دلدل ہے، جس میں سے اگر ایک پاؤں پر زور دے کر اُسے باہر نکالا جائے تو دوسرا پاؤں اور بھی گہرا جنس جاتا ہے۔پس اگر ملک کی بہتری چاہتے ہو تو مسلمان کو بہار اور گڑھ مکتیر کو بھلانا ہوگا۔اور ہندو اور سکھ کو نو اکھلی اور پنجاب کو۔ہاں ان واقعات سے بہت سے سبق بھی سیکھنے والے ہیں۔جو دونوں قومیں انتقام کے جذبہ کو قابو میں رکھ کر بھی سیکھ سکتی ہیں :- میں سکھ صاحبان سے یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ موجودہ جوش و خروش کی حالت میں اس بات کو ہر گز نہ بھولیں کہ عموما دو قوموں کے درمیان تین بنیادوں پر ہی سمجھوتے ہوا کرتے ہیں۔اول یا تو ان کے درمیان مذہبی اصولوں کا اتحاد ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اکٹھا رہنا چاہتی ہیں۔اور یا دوم ان کا تہذیب و تمدن ایک ہوتا ہے۔اور یا سوم ان کے اقتصادی نظریے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔اب اگر ان تینوں لحاظ سے دیکھا جائے تو سکھ کا سمجھوتا مسلمان سے ہونا چاہئے نہ کہ ہندو کے ساتھ کیونکہ : اول تو سکھوں اور مسلمانوں کے مذہبی اصول ایک دوسرے سے بہت مشابہ ہیں۔کیونکہ دونوں قو میں تو حید کی قائل ہیں۔اور ان کے مقابل پر ہندو لوگ مشرک اور بت پرست ہیں۔جن کے ساتھ سکھوں کا مذہبی لحاظ سے کوئی بھی اشتراک نہیں۔اور اسی لئے ماسٹر تارا سنگھ صاحب نے صاف طور پر مانا ہے کہ :۔مذہبی اصولوں کے لحاظ سے سکھ مسلمانوں سے زیادہ قریب ہیں“۔دوسرے تہذیب و تمدن بھی مسلمانوں اور سکھوں کا بہت ملتا جلتا ہے کیونکہ دونوں سادہ