مضامین بشیر (جلد 2) — Page 909
۹۰۹ مضامین بشیر بہت محبت ہے ) کے جسم میں وبا کا اثر ہو چکا تھا اور وہ باوجود نقل مکانی کے اس وبائی مرض میں مبتلا ہو کر شہادت پاگئے خیر وہ تو فوت ہو گئے اور آگے پیچھے سب نے مرنا ہے مگر اس واقعہ کی وجہ سے حضرت عمر کا یہ زرین قول ہمارے ہاتھ آگیا۔جو مسئلہ تقدیر کی گویا جان ہے اور حق یہ ہے کہ یہ جان ہے تو جہان ہے۔تقدیر کی دوسری قسم خدا کے استثنائی قانون سے تعلق رکھتی ہے جسے تقدیر خاص یا تقدیر مبرم کہتے ہیں۔یہ تقدیر ائل تقدیر ہوتی ہے جو یا تو حالات اور اسباب کے اثر سے بالکل ہی آزاد ہوتی ہے اور یا خدا تعالیٰ کے فرشتے اس میں اسباب اور حالات کو ایسے رنگ میں چلاتے ہیں کہ مطلوب اور مقد در نتیجہ بہر حال ظاہر ہو کر رہتا ہے۔اس تقدیر کی مثال زیادہ تر نبیوں اور رسولوں کے زمانہ میں ملتی ہے اور تقدیر عام کی طرح یہ تقدیر بھی خیر و شر دونوں صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے مثلاً جب کفار مکہ نے کفر پر اصرار کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رحمت کی بجائے عذاب کا نشان مانگا تو آپ نے خدا سے خبر پا کر پیشگوئی فرمائی کہ مکہ کے فلاں فلاں ائمہ کفر مسلمانوں کے مقابلہ پر قتل ہو کر تباہ ہوں گے اور آپ نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا کہ ” میں گویا ان لوگوں کے گرنے کی جگہ کو دیکھ رہا ہوں۔“ یہ خدا کی تقدیر مبرم تھی جو آپ کو دکھائی گئی اور پھر عین اس کے مطابق مکہ کے یہ بد باطن رئیس بدر کے میدان میں اپنے سے کئی گنا کم طاقتور فوج کے مقابلہ میں کٹ کر خاک میں مل گئے اور ان کی کوئی تدبیر اس خدائی تقدیر کو بدل نہ سکی۔اس طرح ہمارے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پنڈت لیکھرام کے کفر اور طغیانی کو دیکھ کر پیشگوئی فرمائی کہ چھ سال کے اندر اندر وہ ایک گوسالہ کی طرح چیختا چلاتا ہوا خدائی خنجر سے ذبح کر دیا جائے گا اور پھر عین اس کے مطابق وہ آریہ صاحبان کی لا تعداد مادی تدبیروں کے با وجود ایک غیر معلوم ہاتھ سے اپنے کیفر کردار کو پہنچا اور آج تک قاتل کا سراغ نہیں مل سکا اور جب اس کے قتل پر آریوں نے حسب عادت شور مچایا اور اعتراض کیا کہ اسے نعوذ باللہ مرزا صاحب نے خود قتل کروا دیا ہے تو حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر فرمایا کہ اگر تم واقعی ایسا خیال کرتے ہو تو میدان میں آکر قسم کھاؤ۔پھر اگر ایسی قسم کھانے والے لوگ ( خواہ وہ تعداد میں ہزار ہوں ) ایک سال کے اندر اندر ہلاک ہونے سے بچ جائیں اور ان کی ہلاکت خالصۂ خدائی ہاتھ سے نہ ہو جس میں کسی انسانی سازش کا دخل متصور نہ ہو سکے تو جان لو کہ میں جھوٹا ہوں اور میرا یہ نطق خدا سے نہیں اور آپ نے نہایت تحدی کے ساتھ لکھا کہ یہ تقدیر مبرم ہے جو کبھی نہیں ملے گی اور خواہ میرے مخالف اس تقدیر کے نتیجہ سے بچنے کے لئے دنیا بھر کے اسباب جمع کر لیں وہ اس اٹل خدائی تقدیر سے ہر گز محفوظ نہیں رہیں گے۔یہ گو یا مخالفین اسلام کے لئے تقدیر شہر تھی مگر اس کے مقابل پر بسا اوقات تقدیر مبرم تقدیر خیر کی