مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 908 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 908

۹۰۸ مضامین بشیر میسر آجائے۔تو اس بات میں بھی ہر گز کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خدا کی تقدیر عام اور تقدیر معلق کے دوسرے پہلو کے ماتحت صحت یاب ہو کر بچ جائے گا۔کیونکہ اس کے موجودہ حالات صحت اور شفایابی کا نتیجہ پیدا کرنے والے ہیں۔اور چونکہ چوہدری ظہور الدین مرحوم کے حالات کو خدا کی تقدیر عام سے سمجھنے کا کوئی ثبوت یا قرینہ موجود نہیں اس لئے اس کے متعلق لازماً یہی سمجھا جائے گا کہ اگر اسے صحیح علاج میسر آجاتا تو وہ خدا کے فضل سے ضرور بچ جاتا۔ย اس قسم کی تقدیر کی ایک نہایت دلچسپ مثال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ملتی ہے۔جب حضرت عمرؓ نے شام کی سرحد پر سلطنت روما کے مقابلے کے لئے اسلامی فوجیں بھجوا ئیں تو ان کی کمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی اور اپنے دیرینہ دوست اور رفیق کار حضرت ابو عبیدہ کے سپرد فرمائی۔اتفاق سے اس محاذ پر طاعون کا وبائی مرض پھوٹا اور اس شدت سے پھوٹا کہ بہت سے مسلمان اس مرض کا شکار ہو گئے۔جب حضرت عمرؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے حضرت ابو عبیدہ کے ارفع دینی مقام کے پیش نظر انہیں لکھ کر بھیجا کہ آپ مدینہ واپس آجائیں مگر مصلحۂ اس ہدایت کی غرض ظاہر نہیں کی۔حضرت ابو عبیدہ سمجھ گئے کہ کیوں بلایا جا رہا ہے۔انہوں نے جواب میں لکھا کہ کیا آپ مجھ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ میں اس خطرہ کے وقت میں مسلمانوں کو چھوڑ کر خود مدینہ پہنچ جاؤں۔میں ایسا نہیں کر سکتا۔“ حضرت عمرؓ نے یہ خط پڑھا تو رو پڑے۔اور حکم دیا کہ اچھا اتنا تو ضرور کرو کہ اسلامی فوج اکٹھی اور گنجان صورت میں ڈیرا ڈالے پڑی ہے اور طاعون کا زور ہے۔فوراً مسلمانوں کو صحت آور میدانوں میں پھیلا کر اس خطرناک مرض سے محفوظ کر دو۔حضرت ابو عبیدہ اس حکم کی تعمیل کے لئے تیار ہو گئے۔مگر بعض مسلمانوں نے حضرت عمرؓ کے اس ہدایت پر اعتراض کیا کہ کیا آپ ہمیں خدا کی تقدیر سے بھگاتے ہیں ؟ جو مقدر ہے وہ تو بہر حال ہو کر رہے گا۔حضرت عمرؓ نے فوراً جواب دیا کہ :- افسوس تم نے حقیقت کو نہیں سمجھا اور مسلمانوں کی جانوں کو ہلکا جانا۔میں خدا کی تقدیر سے بھگا کر کسی اور کی تقدیر میں تو داخل نہیں کر رہا۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا کی ایک قضا ( یعنی تقدیر شر ) سے بھاگ کر اس کی دوسری قضا ( یعنی تقدیر خیر ) میں پناہ لے لو ( یہ لفظ میرے ہیں مگر مفہوم حضرت عمرؓ کا ہے ) اللہ۔اللہ ! حضرت عمرؓ کا یہ ارشاد کسی عظیم الشان دانائی پر مبنی تھا کہ گویا دریا کو کوزے میں بند کر کے رکھ دیا ہے مگر افسوس کہ حضرت ابو عبیدہ (جن کے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے میرے دل میں ان کی