مضامین بشیر (جلد 2) — Page 77
مضامین بشیر ٹھوس اور بین حقیقت ہے جسے دنیا کا کوئی مسلمہ سیاسی اصول رد نہیں کر سکتا۔اگر پنجاب ایک رہے تو سکھ قوم ساڑھے سینتیس لاکھ کی ایک زبر دست متحد جماعت ہے۔جس کا سارا زور ایک ہی نکتہ پر جمع رہتا ہے لیکن اگر پنجاب بٹ جائے تو خواہ وہ کسی اصول پر بٹے سکھوں کی طاقت بہر حال دوحصوں میں بٹ جائے گی اور دوسری طرف ان کے آبادی کے تناسب میں بھی کوئی معتد بہ فرق نہیں آئے گا۔اور وہ بہر صورت دونوں حصوں میں ایک کمزور اقلیت ہی رہیں گے۔کیا یہ حقائق اس قابل نہیں کہ سمجھدار سکھ لیڈران پر ٹھنڈے دل سے غور کریں ؟ یہ کہنا کہ پنجاب کے مختلف ضلعے یا زیادہ صحیح طور پر یوں کہنا چاہیئے کہ مختلف حصے آبادی کی نسبت سے نہیں بٹنے چاہئیں بلکہ مختلف قوموں کی جائیداد اور مفاد کی بنیاد پر بننے چاہئیں ایک طفل تسلی سے زیادہ نہیں کیونکہ :۔اول تو یہ مطالبہ دنیا بھر کے مسلمہ سیاسی اصولوں کے خلاف ہے اور جمہوریت کا بنیادی نظریہ اس خیال کو دور سے ہی دھکے دیتا ہے۔دوسرے جائیداد میں ایک آنی جانی چیز ہیں اور ان پر اس قسم کے مستقل قومی حقوق کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی جو انسانی جانوں اور ان جانوں کے تحفظ اور ترقی سے تعلق رکھتے ہیں۔تیسرے۔اس سوال کو اٹھانے کا یہ مطلب ہے کہ ملک کے نئے دور کی سیاست کی بنیا د مساوات انسانی پر رکھنے کی بجائے روز اول سے ہی انفرادی برتری اور جماعتی تفوق اور جبر و استبداد پر رکھی جائے جس کے خلاف غریب ہندوستان صدیوں سے لڑتے ہوئے آج خدا خدا کر کے آزادی کا منہ دیکھنے لگا ہے۔چوتھے۔سکھوں کی یہ جائیدادیں بڑی حد تک ان کی حکومت کے زمانہ کی یادگار ہیں۔جبکہ ان میں سے کئی ایک نے اولاً اپنی طوائف الملوکی کے زمانہ میں اور بعدہ اپنی استبدادی حکومت کے دوران میں دوسرے حقداروں سے چھین کر ان جائیدادوں کو حاصل کیا۔تو کیا یہ انصاف اور دیانتداری کا مطالبہ ہے کہ اس رنگ میں حاصل کئے ہوئے اموال پر آئندہ سیاست کی بنیاد رکھی جائے۔ہم ان کی یہ جائیدادیں ان سے واپس نہیں مانگتے۔جو مال ان کا بن چکا ہے وہ انہیں مبارک ہو مگر ایسے اموال پر سیاسی حقوق کی بنیاد رکھنا جو آج سے چند سال قبل کسی اور کی ملکیت تھے۔دیانتداری کا طریق نہیں ہے۔پانچویں۔دنیا کا بہترین مال انسان کی جان ہے۔جو نہ صرف سارے مالوں سے افضل اور برتر ہے۔بلکہ ہر قسم کے دوسرے اموال کے پیدا کرنے کا حقیقی ذریعہ ہے۔پس جان اور نفوس کی تعداد