مضامین بشیر (جلد 2) — Page 856
مضامین بشیر ۸۵۶ کی طرف سے دو ہرے عذاب کی مستحق ٹھہرے گی لیکن تم میں سے جو خدا اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور نیک اعمال بجا لائے گی تو یقیناً اسے ہم دوہرا اجر بھی عطا کریں گے۔“ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اپنے انعاموں کے دونو پہلوؤں کو جو ایک طرف فضیلت اور دوسری طرف ذمہ داری سے تعلق رکھتے ہیں نہایت لطیف رنگ میں نمایاں کر کے بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ وہ خاندان جس کا کوئی فرد نبوت اور رسالت کے انعام سے مشرف ہوتا ہے اس کے افراد اگر ایمان اور عمل صالح کا اچھا نمونہ قائم کریں تو خدا سے دہرا اجر پاتے اور دوہرے انعام کے مستحق ہوتے ہیں۔لیکن اگر وہ ایمان اور عمل صالح کا اچھا نمونہ قائم نہ کریں تو پھر وہ دہری سزا بھی پاتے ہیں۔یہ اس لئے ہے کہ نبی کا خاندان ایسے مقام پر ہوتا ہے کہ اگر وہ اچھا نمونہ قائم کرے تو بہت سے لوگ اس کے اچھے نمونہ سے فائدہ اٹھاتے اور نیکی کی طرف رستہ پانے میں مدد حاصل کرتے ہیں لیکن اگر یہ خاندان اچھا نمونہ قائم نہ کرے تو وہ اپنے امتیازی مقام کی وجہ سے کثیر التعدادلوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بن جاتا ہے۔یہی وہ نور وظلمت اور جزا وسزا کا دہرا منظر ہے جو اس وقت ہمارے خاندان کے سامنے ہے۔وہ اگر چاہیں اور خدا انہیں توفیق دے تو ایمان اور عمل صالح کا اچھا نمونہ قائم کر کے اپنے آسمانی آقا کے دہرے انعام کے وارث بن سکتے ہیں لیکن اگر خدانخواستہ نیکی کے رستہ کو اختیار نہ کریں اور لوگوں کے لئے اچھا نمونہ نہ بنیں تو پھر انہیں نعوذ باللہ دہری سزا کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔کاش ! اے کاش !! ہماری وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آنکھیں حشر کے میدان میں نیچی نہ ہوں۔ذالک ظننا بالله و نرجوا من الله خيرا و ما توفيقه إلا بالله العظيم۔( مطبوعه الفضل یکم جون ۱۹۵۰ء)