مضامین بشیر (جلد 2) — Page 855
۸۵۵ مضامین بشیر انفرادی انعام قرار دیا گیا ہے اور دوسرے کو قومی۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل خدا تعالیٰ کے ازلی ابدی قانون کے ماتحت نبوت کا انعام اوپر سے نیچے کو آتا ہے۔اور اس کے مقابل پر ملوکیت کا انعام حقیقتاً نیچے سے اوپر کو جاتا ہے یعنی جہاں نبی خدا کا نمائندہ ہوتا ہے وہاں ایک بادشاہ دراصل جمہور کا نمائندہ ہوتا ہے۔اس بنیادی فرق کی وجہ سے ضروری تھا کہ نبوت کو انفرادی انعام قرار دیا جاتا اور ملوکیت کو قومی انعام قرار دیا جاتا اور یہی طریق ہمارے خدائے علیم وحکیم نے اختیار فرمایا۔فا فهم و تدبر میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی خاندان یا قوم میں نبی اور رسول کا مبعوث ہونا اس کے لئے عزت اور فضیلت کا موجب نہیں ہوتا۔جس چیز کو خدا تعالیٰ نے فضیلت کا مقام عطا فرمایا ہے وہ بہر حال نہ صرف اس شخص کے لئے شرف اور فضیلت کا موجب ہو گی جو اس انعام کو فی نفسہ پاتا ہے بلکہ یقیناً اس خاندان اور اس قوم کے لئے بھی شرف اور فضیلت کا موجب ہو گی جس کی طرف ایسا شخص منسوب ہوتا ہے اور اسی لئے اوپر والی آیت میں نبوت کو ذاتی اور انفرادی انعام قرار دینے کے باوجود اسے خاندانی اور قومی شرف اور فضیلت کا موجب قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمُ انْبِيَاءَ یعنی ” اے بنی اسرائیل کی قوم خدا تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں نبی پیدا کئے“۔ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ نبوت کے ایک انفرادی انعام ہونے کے باوجود خدا تعالیٰ اسے خاندانی اور قومی شرف کا موجب بھی قرار دیتا ہے اور اسی لئے وہ ساری قوم کو مخاطب کر کے اپنا یہ انعام یاد دلاتا ہے۔پس یہ بھاری کفرانِ نعمت ہوگا کہ نبوت اور رسالت کے انعام کو خاندانی اور قومی شرف کا موجب نہ سمجھا جائے۔لیکن دوسری طرف خدا تعالیٰ کے انعامات محض ایک اعزازی ڈگری کا رنگ نہیں رکھتے بلکہ ہر انعام کے ساتھ لازماً اس کے منصب کے مناسب حال کچھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مبارکہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ : يُنِسَاءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضْعَفُ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرًا وَمَنْ يَقْنُتُ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا j ۱۲۹ أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ ) یعنی اے نبی کی بیو یو تم میں سے اگر کوئی کھلی کھلی بداعمالی کی مرتکب ہو گی تو وہ خدا