مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 833 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 833

۸۳۳ مضامین بشیر ربوہ میں ایک قادیانی درویش کی شادی پنجاب اور یوپی کے دو مخلص خاندانوں کا اتصال یہ خبر جماعت میں بہت خوشی کے ساتھ سنی جائے گی کہ مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۵۰ء کو حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ربوہ کے مرکز میں بعد نماز عصر سعید احمد صاحب بی۔اے درویش قادیان اور طاہرہ بیگم سلمها بنت سیٹھ خیر الدین صاحب لکھنو کے نکاح کا اعلان ( چار ہزار روپیہ مہر ) فرمایا۔حضور نے اپنے خطبہ نکاح میں اس شادی پر خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے ہر دو خاندانوں کے اخلاص اور قدامت اور دینداری کا ذکر فرمایا۔چنانچہ چوہدری سعید احمد صاحب بی۔اے درویش قادیان کے متعلق حضور نے فرمایا کہ وہ چوھدری غلام محمد صاحب سکنہ پولا مہاراں ضلع سیالکوٹ کے پوتے ہیں جو پرانے صحابی ہونے کے علاوہ بڑے مخلص اور اپنی جماعت کے امیر تھے۔ایک با اثر اور معزز بزرگ ہیں اور خود چوہدری سعید احمد نے اپنی دنیوی ترقی کے مواقع کو خیر باد کہتے ہوئے ( کیونکہ ان کے لئے ای اے سی میں منتخب ہونے کی تجویز ہو چکی تھی ) قادیان میں درویشی زندگی کو ترجیح دی اور ان کے والد چوہدری فیض احمد صاحب انسپکٹر بیت المال ربوہ بھی ایک مخلص کارکن ہیں۔دوسری طرف سیٹھ خیر دین صاحب لکھنو کے متعلق حضور نے فرمایا کہ وہ جماعت لکھنو کے پریذیڈنٹ اور بہت نیک اور اعلیٰ قربانی کرنے والے مخلصین میں سے ہیں۔چنانچہ ملکی تقسیم کے بعد انہوں نے سلسلہ کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اپنی آمد کے تیسرے حصہ کی ادائیگی کا وعدہ کیا جسے وہ بڑے اخلاص کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ خدا کے فضل سے یہ رشتہ جانبین کے لئے بابرکت ہوگا۔ایجاب وقبول کے بعد حضور نے لمبی دعا فرمائی۔سیٹھ خیر دین صاحب کی طرف سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور چوہدری سعید احمد صاحب کی طرف سے ان کے والد چوہدری فیض احمد صاحب ولی تھے۔خطبہ کے دوران میں حضور نے یہ اظہار بھی فرمایا کہ چونکہ ملکی تقسیم کے نتیجہ میں قادیان اور پاکستان کے درمیان آمد و رفت کا سلسلہ نہایت محدود ( بلکہ عام حالات میں عملاً بند ) ہو چکا ہے۔اس