مضامین بشیر (جلد 2) — Page 823
۸۲۳ مضامین بشیر ہوتا ہو کہ آپ کو ایک خدائی حکم ملا اور آپ نے اس پر عمل نہیں کیا۔باقی رہا کتنر یا اکتناز“ کا سوال یعنی اپنے مال کو بند ذخیرہ کی صورت میں دبا کر رکھنا اور اس میں سے کچھ خرچ نہ کرنا۔سو یہ حقیقتاً اسلامی روح کے خلاف ہے اور اسی لئے جیسا کہ میں آگے چل کر لکھوں گا۔اسلام نے کنوز پر بھاری ٹیکس لگا کر اس قارونی روح کو کچلنے کی کوشش کی ہے۔مگر محترمی فاروقی صاحب ! اس سے اس بات کا جواز کہاں سے نکلا کہ زمینداروں کی زمینیں چھین کر کا شتکاروں کو دے دو۔آخر ایک تعلیم یافتہ انسان کو مناظرہ کے جوش میں کوئی بے جوڑ بات تو نہیں کہنی چاہئے۔پھر فاروقی صاحب میرے تبصرے پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تبصرہ نگار نے ( یعنی میں نے ) مصنف ( یعنی حضرت امام جماعت احمدیہ ) کے استدلالات کا اس طرح ذکر کیا ہے کہ گویا وہ نصوص صریحہ ہیں۔حالانکہ قرآنی آیات اور ان کی تاویل و تفسیر دو مختلف چیزیں ہیں۔اس کے جواب میں میں اس کے سوا کیا عرض کر سکتا ہوں کہ انا لله و انا الیه راجعون۔میں نے حضرت امام جماعت احمدیہ کے استدلالات کو ( قطع نظر اس کے کہ میرا ذاتی عقیدہ ان کے متعلق کیا ہے ) ہرگز نصوص صریحہ کے طور پر پیش نہیں کیا۔اگر میں نے ایسا کیا ہے تو فاروقی صاحب میرے وہ الفاظ پیش فرمائیں۔جہاں میں نے ایسا دعواے کیا ہے۔پھر خود بخود اس اعتراض کی حقیقت کھل جائے گی۔میں نے تو فاروقی صاحب کے واسطے بھی اسی طرح استدلال کا رستہ کھلا رکھا ہے۔جس طرح کہ وہ ہمارے لئے یا زید اور بکر اور عمر کے لئے کھلا ہے اگر فاروقی صاحب بھول گئے ہوں۔تو میرے ان الفاظ کو پھر ملا حظہ فرمائیں کہ ” آپ بے شک قرآن وحدیث کی ہر معقول تشریح کا حق رکھتے ہیں۔آپ اسلامی شریعت کے لچکدار حصہ کو موجودہ زمانہ کی ضروریات کے مطابق حکیمانہ صورت میں پیش کرنے کے بھی مجاز ہیں۔۔۔بے شک آپ کے پاس کوئی اور حوالے ہیں تو انہیں پیش کیجئے یا اگر موجودہ حوالوں کی کوئی اور تشریح ہے تو وہ دنیا کے سامنے رکھیئے کیا ان الفاظ کا لکھنے والا اس جرم کا مستوجب سمجھا جا سکتا ہے کہ اس نے کسی شخص کے استدلالات کو (نہ کہ اصل حوالہ جات کو ) نصوص صریحہ قرار دیا ہے ؟ محترم فاروقی صاحب! بے شک آپ جس طرح چاہیں تنقید کریں مگر خدارا اپنی تنقید میں انصاف کے دامن کو تو ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔اسی ضمن میں فاروقی صاحب کو شکوہ ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے مزارعت کے مسئلہ میں حضرت امام ابو حنیفہ کی رائے سے اختلاف کیا ہے۔مجھے علم نہیں کہ فاروقی صاحب کا امام ابو حنیفہ کے متعلق کیا عقیدہ ہے۔لیکن یقیناً وہ امام صاحب موصوف کو نبی اللہ اور مامور من اللہ خیال نہیں فرماتے ہوں گے تو جب وہ نبی اور مامور نہیں تھے تو کسی فقہی عقیدہ میں ان سے اختلاف کرنا ہر گز گناہ