مضامین بشیر (جلد 2) — Page 812
مضامین بشیر ۸۱۲ ربوہ میں درویشوں کے اہل و عیال کیلئے مکانوں کی تجویز مخیر احباب کیلئے خدمت اور ثواب کا عمدہ موقعہ اس وقت کئی درویشوں کے رشتہ دار مکان کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف میں ہیں۔اب تک ایسے درویشوں کے بیوی بچے عارضی طور پر کسی نہ کسی رشتہ دار کے پاس ٹھہر کر گزارہ کرتے رہے ہیں لیکن عرصہ لمبا ہو جانے کی وجہ سے مشکلات دن بدن بڑھ رہی ہیں۔اس کے علاوہ بعض صورتوں میں درویشوں کے اہل وعیال کی خاطر خواہ دیکھ بھال کا بھی کوئی انتظام نہیں اور پھر کئی قومی بچے تعلیم و تربیت سے بھی محروم رہتے جا رہے ہیں۔ان حالات میں حضرت امیر المؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت سے یہ تجویز کی گئی ہے کہ ربوہ میں مستحق درویشوں کے رشتہ داروں کے لئے فی الحال پندرہ عدد عارضی مکانات تعمیر کرائے جائیں۔یہ مکانات کچے ہوں گے اور اوسطاً دو اڑھائی سو روپیہ فی مکان خرچ آئے گا۔پس جماعت کے ذی ثروت اور مخیر دوستوں سے تحریک کی جاتی ہے کہ وہ اس کارخیر میں حصہ لے کر عنداللہ ماجور ہوں۔جماعت کے دوستوں کو یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اس وقت قادیان کے در ولیش وہ فرض ادا کر رہے ہیں جو دراصل ساری جماعت کا فرض ہے۔پس ان کی خدمت حقیقتا بڑے ثواب کا موجب ہے۔یہ چندہ محاسب صاحب صدر انجمن احمد یہ ربوہ ( متصل چنیوٹ ) کے نام پر جانا چاہئے اور منی آرڈر کے کو پن پر نوٹ کر دیا جائے کہ یہ چندہ درویشوں کے اہل و عیال کے مکانوں کی تعمیر کے واسطے ہے اور ساتھ میں مجھے بھی اطلاع بھجوا دی جائے تا میں اپنے ریکارڈ میں درج کر کے اخبار میں اعلان کر اسکوں۔جزاکم الله احسن الجزاء - محاسب صاحب کی خدمت میں لکھا جا رہا ہے کہ وہ اس فنڈ کے لئے ایک علیحدہ امانت کھول دیں۔( مطبوعه الفضل ۲۸ / مارچ ۱۹۵۰ء)