مضامین بشیر (جلد 2) — Page 777
مضامین بشیر ڈاکٹر غفور الحق صاحب کا افسوسناک انتقال ڈاکٹر غفور الحق صاحب جو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے اولڈ بوائے اور ایک مخلص احمدی اور آجکل کوئٹہ کے چوٹی کے ڈاکٹر تھے کل بروز جمعرات ساڑھے پانچ بجے شام کے قریب میوہسپتال لاہور میں انتقال کر گئے۔انالله وانا اليه راجعون۔ڈاکٹر موصوف اپنے اہل وعیال کو راولپنڈی سے لانے کے لئے کوئٹہ سے آئے تھے۔اور رستہ میں طبیعت کی خرابی کی وجہ سے لا ہور ٹھہر گئے۔اس شب انہیں دل کا سخت حملہ ہوا اور فوراً میوہسپتال پہونچا دیئے گئے۔پہلے حملہ کے بعد طبیعت کچھ منھل گئی تھی۔چنانچہ جب میں انہیں ہسپتال میں دیکھنے گیا تو اس وقت طبیعت سنبھلی ہوئی تھی۔لیکن تیسرے دن دوسرا حملہ ہوا اور بالآخر جمعرات کی شام کو ڈاکٹر صاحب موصوف اپنے مولا کے حضور پہنچ گئے۔وفات کے وقت مرحوم کی عمر صرف ۴۵ سال تھی۔چنانچہ ابھی تک مرحوم کی ساری اولاد کم سن ہے وفار سے چار یوم قبل ان کے چچا زاد بھائی ڈاکٹر سراج الحق صاحب ان کے اہل وعیال کو لیکر لاہور پہنچ گئے تھے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے ساتھ ان کی بیوی بچوں کی ملاقات ہوگئی لیکن افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے حقیقی بھائی فیض الحق خانصاحب اور ضیاء الحق صاحب اور مرحوم کے خسر شیخ فضل الرحمن صاحب نہیں پہنچ سکے۔البتہ شیخ فضل الرحمن صاحب ربوہ روانہ ہونے سے قبل لاہور پہنچ گئے تھے۔جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے ڈاکٹر غفور الحق صاحب کوئٹہ میں پرائیویٹ پریکٹس کرتے تھے اور وہاں کے چوٹی کے ڈاکٹر تھے۔گذشتہ دو سال جبکہ حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح ایدہ اللہ کوئٹہ تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب موصوف کو حضور کی خدمت کی خاص سعادت حاصل ہوتی رہی ہے۔اور حضور بھی مرحوم کے اخلاص کی وجہ سے ان کے ساتھ بہت شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔چنانچہ جب حضور کو ڈاکٹر صاحب کی بیماری کی اطلاع پہنچی تو حضور نے تار کے ذریعہ ان کی خیریت دریافت فرمائی۔مرحوم جن کا اصل وطن فیض اللہ چک ضلع گورداسپور تھا بہت ملنسار مہمان نواز۔خدمت گذار اور دوستوں کے لئے دلی خوشی سے قربانی کرنے والے نوجوان تھے۔جنازہ بذریعہ لاری ربوہ بھجوایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے۔اور ان کی اہلیہ اور بچوں اور بوڑھی والدہ اور دیگر عزیزوں کا حافظ و ناصر ہو۔آمین ( مطبوعه الفضل ۱۱ر فروری ۱۹۵۰ء)