مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 696 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 696

مضامین بشیر ۶۹۶ خیر یہ تو صرف تمہیدی کلمات تھے جو میں نے عرض کئے ہیں۔اصل غرض ایک روایت کا بیان کرنا ہے جو مجھے عزیزم مکرم شیخ محمد احمد صاحب پلیڈ ر سابق کپورتھلہ اور حال لائل پور کی طرف سے پہنچی ہے۔شیخ محمد احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک قدیم اور نہایت مخلص اور مقرب صحابی حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم کے فرزند ارجمند ہیں۔حضرت ظفر احمد صاحب مرحوم کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیسا تھ دعوی سے پہلے کا تعلق تھا اور وہ ان بزرگوں میں سے تھے۔جنہیں مسیح موعود کے غیر متوقع دعوے نے ذرہ بھر بھی متزلزل نہیں کیا بلکہ وہ ایمان اور عرفان میں اور بھی ترقی کر گئے اور اس اخلاص اور محبت اور قربانی اور وفاداری کے تعلق کو آخر تک نبھایا اور خوب نبھایا۔اور اب الحمد للہ ان کا مخلص فرزند شیخ محمد احمد بھی انہی کے نقش قدم پر جماعت کا ایک بہت قابل قدر کا رکن ہے۔اور ان شاذ مثالوں میں سے ایک مثال پیش کرتا ہے۔کہ جہاں بیٹا باپ کے روحانی ورثہ کا پوری طرح وارث بنتا ہے اور یخرج الميت من الحى كا نہيں بلكہ يخرج الحي من الحى كا مصداق قرار پاتا ہے فالحمد لله على ذالك واللهم زدفرد بہر حال مجھے شیخ محمد احمد صاحب کی طرف سے اخویم مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے متعلق ذیل کی روایت پہنچی ہے جو میں انہی کے الفاظ میں ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ : جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم ,, جالندھر میں ملازم تھے اور غالباً ان ایام میں افسر مال تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کا والد صاحب مرحوم سے بڑا تعلق تھا۔چنانچہ مرزا صاحب مرحوم نے والد صاحب سے فرمایا کہ بروز وصال حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں جالندھر میں گھوڑے پر سوار جا رہا تھا کہ یکدم بڑے زور سے مجھے الہام ہوا کہ ”ماتم پرسی میں اسی وقت گھوڑے سے اتر آیا۔اور مجھے بہت غم تھا۔خیال کیا کہ شاید تائی صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہو۔پھر خیال کیا کہ نہیں یہ نہیں ہو سکتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماتم پرسی تو صرف والد صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کے متعلق ہی ہو سکتی ہے۔چنانچہ ڈپٹی کمشنر کے پاس گیا کہ مجھے چند روز کی رخصت دی جائے۔غالباً والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا یہ نہیں ہوسکتا۔نہ کوئی خبر آئی ہے۔اور نہ شائع ہوئی ہے اسی درمیان میں تار آ گیا جس میں والد صاحب ( حضرت مسیح موعود ) کے انتقال کی خبر درج تھی اور اس پر ڈپٹی کمشنر کو بہت حیرت ہوئی اور میں رخصت لے کر قادیان پہنچ گیا۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ محمد احمد صاحب کی یہ روایت بہت عجیب اور دلچسپ ہے جس سے کئی مفید استدلات ہو سکتے ہیں یہ روایت پہلے سنے میں نہیں آئی تھی مگر بہر حال یہ بات سب کو معلوم تھی کہ