مضامین بشیر (جلد 2) — Page 675
۶۷۵ مضامین بشیر اور لوگ اپنے اپنے مکان بنوائیں گے۔حضرت صاحب کے مکان میں ربوہ کی مستورات استقبال کی غرض سے جمع تھیں جن کی قیادت ہماری ممانی سیدہ ام داؤ داحمد صاحبہ فرما رہی تھیں اس کے بعد حضرت صاحب اور دوسرے عزیزوں اور اہل قافلہ نے کھانا کھایا۔جو صد را انجمن احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر خانہ کی طرف سے پیش کیا۔غالبار بوہ میں وارد ہونے کے معاً بعد یہ پروگرام بھی تھا کہ حضرت صاحب اپنی مجوزہ مستقل رہائش گاہ کے ساتھ متصل زمین میں مسجد کی بنیاد بھی رکھیں گے۔لیکن چونکہ اس مسجد کی داغ بیل میں کچھ غلطی نظر آئی اس لئے اسے کسی دوسرے وقت پر ملتوی کر دیا گیا۔عصر کی نما ز حضور نے اس مسجد میں ادا فرمائی۔جو حضور کے عارضی مکان کے قریب ہی عارضی طور پر بنائی گئی ہے۔اور اسی لئے اسے مسجد کی بجائے ” جائے نماز کا نام دیا گیا ہے۔کیونکہ بعد میں یہ مسجد مستقل جگہ کی طرف منتقل کر دی جائے گی۔یہ جائے نماز ایک کھلے چھپر کی صورت میں ہے۔جس کے نیچے لکڑی کے ستونوں کا سہارا دیا گیا ہے اور اس کے سامنے ایک فراخ کچا صحن ہے اور اس مسجد کے علاوہ بھی ایک دو عارضی مسجد میں ربوہ میں تعمیر کی جاچکی ہیں کیونکہ اس وقت ربوہ کی آبادی ایک ہزار نفوس کے قریب بتائی جاتی ہے اور آبادی کی نوعیت بھی ایسی ہے کہ عام نمازوں میں سب دوستوں کا ایک مسجد میں جمع ہونا مشکل سمجھا گیا ہے عصر کی نماز کے بعد دوستوں نے حضور سے مصافحہ کا شرف بھی حاصل کیا۔اوپر کے مختصر مگر با برکت پروگرام کے بعد یہ خاکسارا اپنے ساتھیوں کے ساتھ ربوہ سے ساڑھے چھ بجے شام کو روانہ ہو کر ساڑھے نو بجے لاہور واپس پہنچ گیا۔اور اس بات پر خدا کا شکر ادا کیا کہ مجھے اس مبارک تقریب میں شرکت کا موقع میسر آیا۔فالحمد للہ علی ذالک ( مطبوعه الفضل ۲۳ ر ستمبر ۱۹۴۹ء)