مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 656 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 656

مضامین بشیر اسی طرح اسلام نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ غیر محرم مرد کے ساتھ کلام کرتے ہوئے عورت اپنی آواز کی نرمی اور لوچ کو چھپائے۔اور بلند اور سنجیدہ لہجہ کے ساتھ کلام کرے تا کہ آواز کی زینت بھی جو عورت کے قدرتی حسن کا حصہ ہے پردہ میں رہے۔۵۔پردہ کے تعلق میں اسلام یہ ہدایت بھی دیتا ہے کہ کسی عورت اور مرد کیلئے جائز نہیں کہ وہ کسی غیر محرم مرد عورت کو علیحدگی میں ملیں۔جبکہ کوئی تیسرا محرم شخص ساتھ نہ ہو۔مثلا کسی غیر محرم مرد و عورت کا علیحدہ کمرے میں جا کر خلوت میں ملنا۔اسلامی تعلیم کے مطابق ممنوع ہے۔وغیر ذالک ۶۔اسلام یہ بھی حکم دیتا ہے کہ چونکہ رستہ دیکھنے کی سہولت کے لئے آنکھ پردہ کی قیود سے مستثنیٰ ہے۔اس لئے اخلاق کی حفاظت کے لئے مرد و عورت دونوں کو چاہئے کہ جب وہ کسی غیر محرم کے سامنے آئیں تو پردہ کے عام احکام کے علاوہ اپنی نظر کو نیم خوابیدہ صورت میں نیچا رکھیں۔اسی ضمن میں یہ بات بھی نا جائز ہوگی کہ کوئی مرد چھپ چھپ کر کسی غیر محرم عورت کو دیکھے یا کوئی عورت کسی غیر محرم مرد کی طرف تاڑنے کی غرض سے نظر اٹھائے مگر اتفاقی نظر جو فور ہٹا لی جائے قابل معافی ہے۔ے۔پردہ کے احکام بلوغ کی عمر سے شروع ہوتے ہیں۔یعنی خورد سالہ لڑکے اور لڑکیاں پردہ کے احکام سے مستثنے ہیں۔اسی طرح بوڑھی عورتیں جو مخصوص جنسی تعلقات کی حد سے تجاوز کر چکی ہوں ، وہ بھی نظر والے پردہ کے احکام سے مستقلی ہیں۔اوپر کی حد بندیوں اور شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مسلمان عورتیں کسی کام یا ڈیوٹی کے تعلق میں یا جائز تفریح یا صحت کی اغراض کے ماتحت اپنے مکان سے باہر آئیں جائیں۔اور اسلام اس معاملہ میں کوئی نا واجب حد بندی نہیں لگاتا۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسلمان عورتیں تعلیم پاتی اور تعلیم دیتی تھیں۔اپنے کام کاج کے تعلق میں گھروں سے باہر آتی جاتی تھیں۔جنگوں میں مردوں کو پانی وغیرہ پلانے اور مرہم پٹی وغیرہ کرنے کا فرض بجالاتی تھیں۔اور خاص ضرورت کے وقت میں دشمن کے قافلہ پر تلوار بھی چلا لیتی تھیں۔اور ان کے لئے یہ سب کام بالکل جائز سمجھے جاتے تھے۔بلکہ آنحضرت علیہ کے زمانہ میں تو عورتیں صبح اور عشاء وغیرہ کی نمازوں میں بھی الگ صف بنا کر شامل ہو جاتی تھیں۔ان کاموں اور اسی قسم کے دوسرے جائز کاموں کے متعلق اسلام کوئی روک پیدا نہیں کرتا۔اور نہ وہ عورت کو گھروں کی چار دیواری میں قیدیوں کی طرح بند رکھنا چاہتا ہے گو یہ ضرور درست ہے کہ اسلام اس بات کی تحریک کرتا ہے کہ عورت کو چاہئے کہ اپنی بہترین توجہ بچوں کی تربیت پر خرچ کرے تا کہ ہر آئندہ نسل گذشته نسل سے بہتر ہو۔اور قوم کا قدم ترقی کی طرف اٹھتا چلا جائے اور اس غرض سے وہ مرد و عورت دونوں کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے تمام