مضامین بشیر (جلد 2) — Page 655
۶۵۵ مضامین بشیر اسلامی احکام پردہ کا خلاصہ پردہ کے متعلق سات بنیادی نکتے آج کل پاکستان میں پردہ کی بحث زوروں پر ہے۔اور بعض بڑے بڑے لیڈر اسلامی احکام پردہ کے متعلق ایسے خیالات ظاہر کر رہے ہیں جو یقیناً خلاف تعلیم اسلام ہیں۔میں نے اسلامی پردہ کے متعلق کچھ نوٹ تیار کر رکھے ہیں ، اور انشاء اللہ کسی وقت ان نوٹوں کی روشنی میں مضمون لکھنے کی کوشش کروں گا۔لیکن فی الحال بغیر کسی دلیل اور حوالہ کے اسلامی پردہ کے متعلق چند مختصر فقروں میں اپنی تحقیق کا خلاصہ پیش کرتا ہوں تا کہ ہمارے دوستوں کو اطلاع رہے۔اور وہ اپنے مباحث میں اس خلاصہ کو مدنظر رکھ سکیں۔ا۔اسلام سے قبل عرب عورتیں پردہ نہیں کرتی تھیں اور اسلام کے اوائل زمانہ میں مسلمان عورتوں میں بھی پردہ کا رواج نہیں تھا۔لیکن ۰۵ھ کے قریب پردہ کے احکام نازل ہوئے اور مسلمان عورتوں کو حجاب یعنی پر وہ کا حکم دے دیا گیا۔۲۔پردہ کے متعلق جو احکام نازل ہوئے۔ان کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ مسلمان عورتیں غیر محرم مردوں کے سامنے (اور شریعت نے نے محرم مردوں کی تعیین فرما دی ہے۔مثلاً باپ، بیٹا ، خاوند ، بھائی ، چا ، ماموں وغیرہ) اپنی زینت کا اظہار نہ کریں اور زینت کے لفظ میں قدرتی زینت یعنی جسمانی حسن اور مصنوعی زینت یعنی لباس و زیبائش دونوں کا مفہوم شامل ہے۔۳۔لیکن ممال حکمت سے اسلام نے عورتوں کی مجبوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے زینت کے اظہار کے تعلق میں بعض چیزوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔مثلاً ہاتھ جو کام کرنے کے لئے ضروری ہیں۔پاؤں جو چلنے پھرنے کے لئے ضروری ہیں آنکھ جو راستہ دیکھنے کے لئے ضروری ہے۔اور ناک اور منہ کا دہانہ جو سانس لینے کے لئے ضروری ہیں، مستقلی ہیں۔مگر باقی چہرہ ہرگز مستثنی نہیں۔البتہ بیماری کے موقع پر جبکہ مجبوری کی صورت ہو جسم کے کسی حصہ کا ڈاکٹر کو دکھانا جائز ہے۔۴۔زینت کے عدم اظہار کے تعلق میں اسلام نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ ایک مسلمان عورت کسی غیر محرم مرد کے ساتھ مصافحہ نہ کرے کیونکہ اس طرح اس کے جسم کی زینت کا اظہار ہو جاتا ہے اور