مضامین بشیر (جلد 2) — Page 642
مضامین بشیر ۶۴۲ کیجئے۔آپ نے فرمایا "جاؤ اور اس بچہ کو دودھ پلانے کی مدت پوری کرو۔اس کے بعد میرے پاس آنا۔چنانچہ وہ گئی اور رضاعت کا زمانہ پورا کر کے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا ”یا رسول اللہ اب تو رضاعت کی مدت بھی پوری ہو چکی ہے۔اب خدا کے لئے مجھے پاک کیجئے۔آپ نے اسے اس فیصلہ کے مطابق جو اس وقت تک اسلام میں رائج تھا اور ابھی سورہ نور والی آیتیں نہیں اتری تھیں رجم کئے جانے کا حکم دیا اور بچہ اس عورت کے بعض عزیزوں کے سپر دکر دیا گیا جب اس کے رجم کئے جانے کے بعد کسی خشک ایمان مسلمان نے اس عورت کے متعلق کچھ نازیبا الفاظ کہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو دیکھو ایسا مت کہو اور عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ سینکڑوں وو 2166 گنہ گاروں پر بھی تقسیم کر دی جائے تو ان کی مغفرت کے لئے کافی ہوگی۔یہ وہ واقعہ ہے جو صیح ترین حدیثوں میں اسی طرح بیان ہوا ہے جس طرح کہ اوپر لکھا گیا ہے۔بے شک میں مانتا ہوں اور شریعت اسلامی مجھ سے یہی بات منواتی ہے کہ اس عورت کی یہ غلطی تھی کہ اس نے خدائی ستاری کے پردے کو پھاڑ کر اپنی اس قسم کی مخفی لغزش کا بر ملا اظہار کیا اور حدیثوں سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی منشاء تھا کہ وہ دل میں خدا سے مغفرت طلب کرے جس نے اسے اپنی ستاری کے دامن میں چھپایا ہوا تھا اور صحابہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کوشش تھی کہ وہ اپنے اس گناہ کے بر ملا اظہار سے رک جائے۔مگر اس عورت نے اس اشارے کو نہ سمجھا اور اپنے خیال کے مطابق اصرار کرتی چلی گئی کہ مجھ سے یہ گناہ ہوا ہے مجھے خدا کی مقرر کردہ سزا دے کر دنیا میں جو کچھ کرنا ہے کر لیجئے لیکن آخرت کے عذاب سے بچائیے وہ اس نکتہ کو نہیں سمجھتی تھی کہ خدائی ستاری بھی ایک بڑی رحمت اور بڑی نعمت ہے اور خدا کا یہ ایک ازلی قانون ہے کہ اگر کسی وقتی غفلت کے بعد اس کا کوئی بندہ نادم ہو کر اس کے آستانہ پر کچی تو بہ کے ساتھ گرتا ہے تو وہ رحیم و کریم آقا اسے بخش دیتا ہے اور پھر ایسا بندہ گویا دہرے انعام کا وارث ہو جاتا ہے ایک تو خدائی ستاری کا انعام اور دوسرے اس کی بخشش اور معافی کا انعام مگر عورت بہت سادہ مزاج تھی۔وہ روحانیت کے اس بار یک نکتہ کو نہ سمجھی کہ خدا کی ایک سہل نعمت سے بھاگ کر سخت نعمت کی پناہ ڈھونڈنا دانائی کا رستہ نہیں اور بار بار اپنے گناہ کا اعتراف کر کے سزا کی طالب ہوئی۔خیر یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ تھا جو جس صورت میں کہ مقدر تھا، وقوع پذیر ہوا لیکن اس واقعہ سے ہمیں یہ بھاری سبق حاصل ہوتا ہے کہ ایک پیدا شدہ جان کو حتی الوسع تباہ ہونے سے بچانا چاہیئے۔کیونکہ ایک تو گنہگار ماں ہوتی ہے نہ کہ بچہ اور کوئی وجہ نہیں کہ ماں کے