مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 641 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 641

۶۴۱ مضامین بشیر رہے ہیں۔یعنی گو عام حالات میں حمل ضائع کرنے یا کرانے والی عورت مجرم سمجھی جاتی ہے لیکن گزشتہ غیر معمولی حالات کے نتیجہ میں حکومت کے بعض افسروں کے متعلق ( جن کا نام مجھے معلوم نہیں ) سنا جاتا ہے کہ وہ عورتوں کی مجبوری کو دیکھ کر تسامح اور ہمدردی کا طریق اختیار کرتے رہے ہیں۔اور اگر یہ خبر درست ہے تو میں موجودہ حالات میں اس رویہ کو بھی چنداں زیر الزام نہیں لاسکتا کیونکہ بہر حال انسانی غیرت اور پھر قومی غیرت کے جذبہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔لیکن بعض باتیں انفرادی اور خاندانی اور قومی غیرت اور مصالح سے بھی وسیع تر ہوتی ہیں اور انسانیت کے لامحدود نظریہ سے دیکھی جاتی ہیں اور بعض باتوں میں اسلام نے بھی اسی وسیع نظریہ کو اختیار کیا ہے۔مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ ایک عورت وقتی جذبات کے جوش میں خود اپنی رضامندی کے ساتھ کسی مرد کے ساتھ زنا کی مرتکب ہوئی لیکن چونکہ اس عورت کی دل کی گہرائیوں میں نیکی اور پاکبازی کا جذ بہ موجود تھا اس لئے جب یہ حیوانی جوش کا وقت گزر گیا تو یہ عورت نادم ہو کر اور گویا اپنی عزت نفس کو مٹی میں ملا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے روتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں ناپاک ہوگئی ہوں مجھے پاک کیجئے۔“ آپ نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا کہتی ہو؟“ اس نے پھر یہی الفاظ دہرائے کہ ” میرے آقا میں غفلت کی حالت میں ناپاک ہوگئی ہوں مجھے خدائی قانون کے ما تحت سزا دے کر پاک کیجئے۔“ آپ نے بڑے استعجاب کے ساتھ چار دفعہ اپنے اس سوال کو دہرایا مگر ہر دفعہ یہ بدقسمت گوانجام کے لحاظ سے نیک قسمت عورت یہی کہتی چلی گئی کہ یا رسول اللہ میں ناپاک ہو گئی ہوں مجھے دوزخ کی آگ سے بچائیے۔“ آپ نے ادھر اُدھر نظر اٹھا کر دیکھا اور صحابہ سے پوچھا کہ ،، کیا یہ عورت مجنون تو نہیں ہے ؟“ 66 صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ مجنون نہیں ہے۔“ پھر آپ نے اس عورت سے پوچھا ” کیا تجھے حمل تو نہیں ؟“ اس نے کہا ”یا رسول اللہ مجھے حمل بھی ہے۔آپ نے فرمایا تو پھر واپس جاؤ اور وضع حمل کے بعد آنا۔چنانچہ وہ گئی اور حمل کے دن پورے کر کے بچہ جنا اور پھر اس بچہ کو گود میں اٹھائے ہوئے رسول اللہ کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ اب میں حمل سے فارغ ہو چکی ہوں اور یہ میرا بچہ ہے اب تو مجھے پاک