مضامین بشیر (جلد 2) — Page 532
مضامین بشیر ۵۳۲ دے کر فرعون کی طرف بھیجا تو حضرت موسی کو تاکید فرمائی کہ ( چونکہ فرعون کو اس وقت ملک میں رتبہ حاصل ہے اس لئے ) اس کے ساتھ نرمی اور ادب کے طریق پر بات کرنا۔عدالتی امور میں مکمل مساوات لیکن اس کے مقابل پر عدالتی اور قضائی حقوق کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اور کن شاندار الفاظ میں فرماتے ہیں کہ : إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ أَنَّهُمْ كَانُو يُقِيمُونَ الْحَدَّ عَلَى الْوَضِيع وَيَتْرُكُونُ الشَّرِيفَ وَالَّذِى نَفْسِي بِيَدِهِ لَو فَاطِمَةُ فَعَلَتْ ذَالِكَ لَقَطَعُتُ يَدَهَا - ۲۴ یعنی تم سے پہلے اس بات نے کئی قوموں کو ہلاک کر دیا کہ جب ان میں سے کوئی چھوٹا آدمی جرم کرتا تھا تو وہ اسے سزا دیتے تھے اور جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تھا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے۔سو ا چھی طرح کان کھول کر سن لو کہ مجھے اس پاک ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر میری لڑکی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو میں اسلامی طریق پر اس کے بھی ہاتھ کاٹوں گا۔“ اللہ اللہ ! کیسے زور دار الفاظ میں اور کس جلال کے ساتھ اسلامی مساوات کو قائم کیا گیا ہے !! اور یہ تعلیم وہ تھی جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء نے بھی بڑی سختی کے ساتھ مد نظر رکھا۔چنانچہ 66 حضرت ابوبکر خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے سب سے پہلے خطبہ میں فرماتے ہیں: الضعيف فيكم قوى عندى حتى أريح عليه حقه ان شاء الله والقوى فيكم ضعيف عندى حتى اخذ الحق منه - ۲۵ یعنی اے مسلمانو ! سن لو کہ تم میں سے کمزور ترین شخص میرے لئے اس وقت تک قوی ہوگا جب تک کہ میں اسے اس کا حق نہ دلا دوں اور تم میں سے قوی ترین شخص میرے لئے اس وقت تک کمزور ہو گا جب تک کہ میں اس سے وہ حق جو اس نے کسی اور کا دبایا ہوا ہو واپس نہ لے لوں۔“ اسی طرح حضرت عمر خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ شمالی عرب کے ایک بڑے رئیس جبلہ بن ایم نامی نے جو مسلمان ہو چکا تھا کسی غریب مسلمان کو غصہ میں آکر تھپڑ مار دیا جب حضرت عمر کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے جبلہ کو بلا کر فرمایا