مضامین بشیر (جلد 2) — Page 527
۵۲۷ مضامین بشیر مساوات اسلامی پر ایک مختصر نوٹ از سيرة خاتم النبیین حصہ سوم جز واول اس جگہ ایک مختصر سا نوٹ اسلامی مساوات کے متعلق سُپر قلم کرنا بے موقع نہ ہوگا کیونکہ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ جس کے متعلق اکثر لوگوں میں غلط فہمی پائی جاتی ہے یعنی جہاں ایک طبقہ نے اسلامی مساوات کے یہ معنی سمجھ رکھے ہیں کہ اسلام میں سب چھوٹے بڑے ہر جہت سے برابر ہیں اور اسلام کسی صورت میں کسی شخص کے امتیاز یا بڑائی کو تسلیم نہیں کرتا اور تمام امتیازات کو مٹا کر ہر شخص کو ہر لحاظ سے ایک لیول پر کھڑا کرنا چاہتا ہے۔وہاں ایک دوسرے طبقہ نے اسلام میں بھی اسی رنگ کے ناگوار طبقے بنا رکھے ہیں جو اکثر دوسری قوموں میں پائے جاتے ہیں اور ان طبقات کے علیحدہ علیحدہ حقوق قرار دے دیئے گئے ہیں بلکہ ان طبقات کے اندر کی خلیج کو وسیع تر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔سو جاننا چاہیئے کہ صحیح اسلامی تعلیم کی رو سے یہ دونوں خیالات افراط و تفریط کے طریق پر غلط اور نا درست ہیں بلکہ اصل اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جہاں تک حقوق اور ذرائع ترقی کے حصول کا سوال ہے سب لوگ برابر ہیں اور کسی فرد یا کسی جماعت کو کسی دوسرے فرد یا کسی دوسری جماعت پر کسی رنگ میں فضیلت حاصل نہیں اور اس جہت سے اسلام میں قطعا کوئی درجے یا طبقے پائے نہیں جاتے بلکہ پوری پوری مساوات ہے لیکن دوسری طرف اگر کوئی شخص کسی جائز وجہ سے کوئی دینی یا دنیوی ترقی اور بڑائی حاصل کر لیتا ہے تو حقوق کے معاملہ کو الگ رکھتے ہوئے جس میں بہر حال سب برابر ہیں ، اسلام عام تعلقات میں ایسے شخص کی حاصل شدہ بڑائی اور ترقی کو تسلیم کرتا ہے اور اسے اُس کے جائز مرتبہ سے گرا کر ظلم اور حق تلفی کے طریق کو اختیار نہیں کرتا۔خلاصہ یہ کہ جہاں ایک طرف اسلام نے سب بنی نوع آدم کو حقوق اور ذرائع ترقی کے حصول کے معاملہ میں ایک لیول یعنی ایک سطح پر کھڑا کیا ہے اور کسی نا واجب نسلی اور خاندانی یا انفرادی امتیاز کو تسلیم نہیں کیا وہاں افراد اور قوموں کی حاصل شدہ بڑائی اور ترقی کو جبر و تشدد کے رنگ میں مٹایا بھی نہیں اور انہیں ان کی محنت یا خوش بختی کے ثمرہ سے محروم نہیں کیا۔البتہ اس صورت میں گرے ہوئے لوگوں کو اٹھانے کے لئے مؤثر تدابیر ضرور اختیار کی ہیں اور یہی وہ اعلیٰ اور وسطی طریق ہے جسے نظر انداز کر کے دنیا آج کل مختلف قسم کے فتنوں کا شکار بن رہی ہے اور اس زمانہ کی سرمایہ