مضامین بشیر (جلد 2) — Page 507
۵۰۷ مضامین بشیر موصی صاحبان کو امامنا دفن کیا جائے۔باوجود اس کے کہ بار بار اعلان کیا جا چکا ہے کہ موصی صاحبان کو امانتاً دفن کرنا چاہئے۔پھر بھی بعض دوست اس بارہ میں سستی کر بیٹھتے ہیں اور موصی اصحاب کو بغیر امانت کے دفن کر دیتے ہیں۔پس دوستوں کو اس بارہ میں دوبارہ توجہ دلائی جاتی ہے کہ آج کل جو موصی صاحبان فوت ہوں ( خصوصاً ایسے موصی صاحبان جو قادیان سے آئے ہوئے ہیں کیونکہ میرے صیغہ کا تعلق صرف انہیں کے ساتھ ہے ) انہیں فوت ہونے پر ضرور ا مانتا دفن کیا جائے۔امانتاً دفن کرنے سے یہ مراد ہے کہ ایک لکڑی کے مضبوط بکس میں ( جو عموماً چھپیں تھیں روپے میں مکمل ہو جاتا ہے ) دفن کیا جائے اور اس بکس کو فی الحال ایسے طور پر قبر میں رکھا جائے کہ دیمک وغیرہ لگنے کا خطرہ کم از کم ہو۔پھر جب ربوہ کا مرکز قائم ہو جائے گا تو ایسے موصی صاحبان کو انشاء اللہ وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔کیونکہ وہاں عام قبرستان کے علا وہ اس غرض کے لئے ایک خاص جگہ ریز روکر دی گئی ہے۔( مطبوعه الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۴۹ء)