مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 493 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 493

۴۹۳ مضامین بشیر کثرت اولا دوالے مضمون پر دوستوں کے اعتراضات اسلام میں تعدد ازدواج کی اجازت ضرور ہے مگر اسے فرض قرار نہیں دیا گیا تبلیغ و تربیت کا کام ایک ہی وقت میں جاری رہنا ضروری ہے کچھ عرصہ ہوا میں نے اپنے ایک مضمون میں دوستوں کو کثرت اولاد کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی تھی۔اس تعلق میں میرے پاس دو دوستوں کی طرف سے بعض اعتراضات پہنچے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ میں ان کے اعتراضوں کا جواب دوں۔گو میرے خیال میں بہتر ہوتا کہ وہ خود غور کر کے اپنے اعتراضوں کا جواب سوچنے کی کوشش کرتے کیونکہ یہ اعتراض ایسے نہیں ہیں کہ ایک سمجھدار شخص خصوصاً جب کہ وہ احمدیت کے نور سے منور ہو ان اعتراضوں کا جواب نہ سوچ سکے۔بہر حال ان دوستوں کی خواہش کے احترام میں ان کے اعتراضوں کا مختصر بلکہ دو حرفی جواب قرآنی آیات کی بحث میں جانے کے بغیر درج کیا جاتا ہے۔پہلے دوست نے دو اعتراض کئے ہیں جن میں سے پہلا اعتراض یہ ہے کہ تم نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ” قرآن شریف نے تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے مگر یہ خیال درست نہیں کہ اسلام میں تعدد ازدواج صرف اجازت کی حد تک ہے۔کیونکہ قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ اسلام میں اصل حکم تعدد ازدواج کا ہے اور ایک بیوی سے شادی کرنا صرف استثنائی صورت ہے۔ان دوست کے نزدیک حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے بھی متعلقہ قرآنی آیت کی یہی تفسیر فرمائی ہے کہ اسلام میں تعدد ازدواج کا حکم قاعدہ کے طور پر ہے اور ایک بیوی سے شادی کرنا استثنائی ہے جس کا دروازہ صرف خاص حالات کے لئے کھلا رکھا گیا ہے۔وغیرہ وغیرہ مجھے حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کا کوئی ایسا حوالہ یاد نہیں جس میں حضور نے تعدد ازدواج کو اصل حکم کے طور پر پیش کیا ہو اور ایک شادی کرنے کو استثناء قرار دیا ہو۔بے شک حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ کے ایک خطبہ سے بعض لوگوں نے اس قسم کا گمان کیا تھا مگر بعد میں حضور