مضامین بشیر (جلد 2) — Page 483
۴۸۳ مضامین بشیر سے زبردستی نکال دینا اور بات ہے یا گزارہ کے خیال سے کوئی عارضی الاٹمنٹ قبول کرنا ، یہ بھی اور بات ہے اور خود اپنے ہاتھ سے اپنا حق ترک کر کے غیر مسلموں کے سپر د کر دینا بالکل جدا گانہ چیز ہے اور کوئی غیرت مند احمدی اپنے مقدس اور دائمی مرکز کے متعلق یہ صورت قبول نہیں کر سکتا اور دراصل یہ خدائی بشارات اور ہمارے ایمان کے بھی منافی ہے۔۳۔تیسرا سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے قادیان میں ایک ایک یا دو دو کنال یا کم و بیش سکنی زمینیں خریدی ہوئی تھیں ، وہ ان زمینوں کے تعلق میں کیا صورت اختیار کریں۔سو اول تو جبکہ یہ سکنی زمینیں کوئی پیدا وار نہیں دے رہی تھیں تو پھر جہاں تک گزارہ کا تعلق ہے یہ سوال پیدا نہیں ہوتا اور ایسے لوگوں کو صبر اور رضا کے ساتھ قادیان کی بحالی کا انتظار کرنا چاہیئے لیکن اگر کوئی دوست زیادہ حاجتمند ہوں تو ان کے لئے یہ صورت ممکن ہو سکتی ہے کہ یا تو ایسی زمینوں کے مقابلہ پر کوئی شہری زمین الاٹ کرا کے اس کے کرایہ وغیرہ سے عارضی فائدہ اٹھا لیں اور یا ایسی زمینوں کی مالیت لگا کر اس مالیت کے مقابلہ پر کسی آمدنی والی جائیداد کی عارضی الاٹمنٹ کرالیں۔۴۔چوتھا سوال قادیان کے ملحقہ دیہات ننگل ، بھینی دکھا را کے متعلق ہے۔سو اس کے متعلق حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا ابھی تک یہی فیصلہ ہے کہ وہ عملاً قادیان کا حصہ ہیں اور جو ہدایات قادیان کی جائیداد کے متعلق دی گئی ہیں وہی ان کے متعلق بھی سمجھنی چاہئیں۔۔بالآخر دوستوں کو یہ اصولی بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ایسے امور میں بہت زیادہ سوالات اٹھانا اور فرضی پہلو کھڑے کر کے ان کے متعلق تسلی چاہنا درست طریق نہیں ہے۔ہماری ہدایات کا اصل مرکزی نقطہ صرف اس قدر ہے کہ قادیان چونکہ ہمارا مقدس اور دائمی مرکز ہے اور خدا کے فضل سے ہمیں ضرور بالضرور واپس ملے گا اس لئے قادیان کی جائیداد پر خود اپنے ہاتھ سے اپنا حق ترک نہیں کرنا چاہیئے۔یعنی پرائیویٹ فروخت یا مستقل تبادلہ کسی صورت میں نہ کیا جائے اور آمدن پیدا کرنے والی جائیداد کی الاٹمنٹ قبول کرتے ہوئے یا اس کی درخواست دیتے ہوئے اس بات کی صراحت کر دی جائے کہ قادیان چونکہ ہمارا مقدس مرکز ہے اس لئے اپنی اصل جائیداد بحال ہونے کی صورت میں ہم یہ الاٹ شدہ جائیداد ترک کر دیں گے۔اس قسم کے اظہار کے بعد ہم خدا اور دنیا کے سامنے سرخرو ر ہتے ہیں۔اور قادیان کی بحالی پر ہمیں اس کی جائیداد کے واپس حاصل کرنے کا حق رہتا ہے۔۶۔اوپر کا اعلان صرف قادیان اور اس کے ملحقہ دیہات منگل اور بھینی اور کھارا کی غیر منقولہ جائیداد سے تعلق رکھتا ہے۔ان کے علاوہ باقی جگہوں کی متروکہ جائیداد کے متعلق مقررہ قواعد کے مطابق پورا پورا مطالبہ کرنا چاہیئے۔