مضامین بشیر (جلد 2) — Page 479
مضامین بشیر سید وزارت حسین صاحب کا خط سٹیٹمین دہلی کے نام ایک غلط فہمی کی ضروری تردید جیسا کہ احباب کو معلوم ہے گذشتہ جلسہ سالانہ قادیان میں دہلی ، یو۔پی ، بہار اور بنگال وغیرہ کے ۶۶ دوست بھی شریک ہوئے تھے اور ان دوستوں میں سید وزارت حسین صاحب پروونشل امیر جماعت احمد یہ صوبہ بہار بھی شامل تھے۔اس وفد کی قادیان سے واپسی پر اخبار سیٹسمین دہلی کے ایک نمائندہ نے سید وزارت حسین صاحب موصوف سے امرتسر میں ملاقات کی اور پھر اس ملاقات کی رپورٹ اخبار سٹیٹسمین میں شائع کرائی۔اس رپورٹ میں سید صاحب موصوف کی طرف یہ بات منسوب کی گئی تھی کہ انہوں نے گاندھی جی کو بنی نوع انسان کا بالعموم اور مسلمانوں کا بالخصوص سب سے بڑا محسن قرار دیا ہے۔اسی طرح اس رپورٹ میں یہ بات بھی سید وزارت حسین صاحب کی طرف منسوب کی گئی تھی کہ گاندھی جی ہمیشہ اسلامی اصولوں کے پابند رہے ہیں۔چونکہ یہ دونوں باتیں سید وزارت حسین صاحب نے نہیں کہیں تھیں اور اخباری نمائندہ کی غلط نہی کی وجہ سے ان کی طرف منسوب کی گئیں۔اس لئے سید صاحب موصوف نے اپنے ایک خط میں جو اخبار سٹیٹسیمن کی اشاعت مؤرخہ ۲۳ جنوری ۱۹۴۸ء میں شائع ہوا ہے ان دونوں باتوں کی پُر زور تردید کی ہے اور ہم اس سوال کی اہمیت کے پیش نظر اس خط کا اردو تر جمہ ذیل میں درج کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی گذشتہ ایام میں سیمین اور بعض دوسرے اخباروں میں بعض غلط فہمی پیدا کرنے والی رپورٹیں شائع ہوئی ہیں جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ رپورٹ لکھنے والے اخباری نمائندے بعض اوقات کسی خاص غرض و غایت کو سامنے رکھ کر سوالات کرتے ہیں اور پھر جواب دینے والے کے جوابات کو اپنی اسی غرض و غایت کی روشنی میں بدل لیتے ہیں۔ہمیں سٹیٹسمین کے نمائندہ پر یہ بدظنی تو نہیں ہے کہ اس نے دانستہ ایسا کیا ہولیکن یقیناً ہمارے بعض اصولوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یا اپنے طریق کے مطابق دونوں حکومتوں میں بہتر تعلقات پیدا کرنے کی خواہش کے ماتحت اس سے نا دانستہ طور پر یہ غلطی سرزد ہوگئی ہے۔بایں ہمہ گذشتہ ایام میں اخبار سٹیٹسمین نے جو کوشش مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کی ہے وہ یقیناً قابل تعریف ہے۔