مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 36 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 36

مضامین بشیر ۳۶ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی لفظ زائد اور بے معنی نہیں ہوا کرتا۔اس مختصر تشریح سے ہمارے اس دوست کی ( جو خدا کے فضل سے مخلص بھی تھے اور ذہین بھی ) گویا آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے نہائت درجہ شکریہ کے رنگ میں کہا کہ آپ نے مجھے ایک بھاری خلجان سے بچالیا ہے۔دراصل جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا ہے اللہ تعالیٰ نے جو مصلح موعود کے متعلق ” دل کا حلیم کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں، یہ اپنے اندر ایک نہائت گہری صداقت رکھتے ہیں۔کیونکہ ان الفاظ میں یہ لطیف اشارہ کیا گیا ہے کہ گو مصلح موعود اپنے قلبی جذبات میں حلیم ہو گا۔مگر اس کے ظاہر میں جلال اور درشتی کا رنگ پایا جائے گا۔اس لئے اس کے متعلق صرف حلیم“ کی مفرد صفت کا اطلاق درست نہیں ہو گا۔بلکہ دل کے حلیم کی مرکب صفت ہی اس کے فطری خلق کی آئینہ دار ہو سکے گی۔کیونکہ گو اس کے ظاہر میں جلال رکھا گیا ہے مگر اس کے قلب کی گہرائیوں میں حلم و بردباری کا بسیرا ہے۔یہی وہ حقیقی تشریح ہے جو مصلح موعود والی وحی کے گہرے مطالعہ سے ثابت ہوتی ہے۔اور جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض نا واقف لوگ پریشان ہونے لگتے ہیں۔حالانکہ اگر غور کیا جائے تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی زندگی کے انتظامی پہلو کا جومختصر مگر مکمل نقشہ ان تین الفاظ میں کھینچا گیا ہے اس سے زیادہ صحیح تصویر ممکن نہیں ہو سکتی۔مگر افسوس کہ اکثر لوگ تدبر کی عادت نہیں رکھتے۔در حقیقت بات یہ ہے کہ قوموں کی تربیت اور ترقی کے لئے جلال اور جمال دونوں ضروری ہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ کی یہ قدیم سنت ہے کہ وہ کسی نبی میں جلال کے پہلو کو غلبہ دے دیتا ہے اور کسی میں جمال کے پہلو کو اور کسی میں جہاں وقتی ضروریات ایک مرکب صفت والے مصلح کی متقاضی ہوتی ہیں، کسی ایسے انسان کو مبعوث فرماتا ہے جو جلال و جمال دونوں کا مظہر ہوتا ہے۔یعنی اگر اس کا ظاہر جلال کی صفت پر قائم ہوتا ہے تو اس کا باطن جمال کی صفت کا حامل اور یہی ابدی فلسفہ خلفاء کے سلسلہ میں بھی کام کرتا ہو ا نظر آتا ہے۔لیکن یہ ایک لمبا مضمون ہے اور میں انشاء اللہ اس موضوع پر عنقریب ایک علیحدہ مضمون لکھوں گا۔وما توفيقى الا بالله العظيم نوٹ : - چونکہ اس گفتگو پر کچھ عرصہ گزر چکا ہے اس لیئے ممکن ہے کہ بعض الفاظ کم و بیش ہو گئے ہوں اور بعض میں نے تشریح کے خیال سے دانستہ کم و بیش کیئے ہیں۔( مطبوعہ الفضل ۴ ۱ جون ۱۹۴۶ء)