مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 32 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 32

مضامین بشیر ۳۲ ان کی حکومتوں کو جدا کرنا کسی قوم کے لئے بھی فائدہ کا موجب نہیں ہوتا بلکہ فتنہ وفساد اور ٹکراؤ کے موقعوں کو بڑھا دیتا ہے پس حق خود اختیاری Right of self Detemination کے استعمال کے لئے یہ بھی ایک ضروری شرط ہے کہ جو قوم اس کی مدعی بنتی ہے وہ کسی علیحدہ ملک میں یا ملک کے کسی علیحدہ اور معین اور معقول حصہ میں نمایاں اکثریت کے رنگ میں آباد ہو۔پنجم۔مندرجہ بالا شرطوں کے علاوہ یہ شرط بھی ضروری ہے کہ قوم کی اکثریت میں اس بات کی خواہش اور مطالبہ پا یا جائے کہ ہمارا نظام جدا ہونا چاہیئے۔یہ شرط اس لئے ضروری ہے کہ اگر با وجود مذہبی اور تمدنی اختلاف کے ایک قوم اپنے مخصوص حالات کے ماتحت اپنی ہمسایہ قوموں کے ساتھ مل کر ایک ہی نظام میں منسلک رہنا چاہتی ہے تو یہ ایک مبارک خواہش ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ایسی قوم کو خواہ نخواہ مجبور کر کے علیحدہ کیا جائے اس کے مقابل پر جب ایک قوم کی اکثریت میں علیحدگی کی خواہش موجود ہو تو اسے مجبور کر کے کسی دوسری قوم کے ساتھ اکٹھا رکھنا بھی ایک بھاری ظلم ہے۔کیونکہ انصاف اور حق خود اختیاری کا تقاضا ہے کہ اسے علیحدہ ترقی کا موقعہ دیا جائے۔یہ وہ پانچ اصولی باتیں ہیں جن کے جمع ہونے پر ایک قوم کو عقل وانصاف کی رو سے حق خود اختیاری حاصل ہو جاتا ہے اور اسکے بعد اسے اس حق سے محروم کرنا ویسی ہی جابرانہ آمریت ہے جیسی کہ یورپ والے مشرقی ممالک پر روا ر کھنے کے عادی ہیں۔یہ کہنا کہ فلاں حصہ ملک الگ ہو کر اپنی حکومت کو آزادانہ رنگ میں نہیں چلا سکے گا۔یا یہ کہنا اس طرح وہ دوسری زبر دست قوموں کا شکار بن جائے گا یا یہ کہ اس کی اقتصادی مشیری بگڑ کر تباہ ہو جائے گی یا یہ کہ وہ ملک کے دوسرے حصوں پر جس میں خود اس کے اپنے بھائی بند آباد ہیں اپنا اثر و رسوخ کھو بیٹھے گا اپنے اندر ناصحانہ انداز تو ضرور رکھتا ہے اور اس جہت سے کسی قوم کو انکار نہیں ہونا چاہیئے مگر ان باتوں کی وجہ سے کسی قوم کی خواہش اور مطالبہ کو رد کر کے اسے ایک خلاف مرضی نظام کی ماتحتی قبول کرنے پر مجبور کرنا ہر گز انصاف کا شیوہ نہیں آخر جب ہند و کو انگریز کی غلامی سے آزاد ہونے کا حق ہے تو مسلمان کو ہندو کی غلامی سے آزاد ہونے کا حق کیوں نہیں ؟ اور جب ہندو انگریز سے یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ تمہارے خیال میں تمہاری حکومت ہمارے لئے ایک بھاری رحمت ہی سہی مگر بہر حال ہم اسے اب اپنے لئے اچھا نہیں سمجھتے۔اور اپنے ملک میں اپنے رنگ کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں تو مسلمان کیوں اسی دلیل کی بناء پر علیحدہ نظام قائم نہیں کر سکتا ؟ انصاف کا فطری تراز و بہر حال سب انسانوں کے لئے ایک ہے تو پھر ایسا کیوں ہو کہ ہندو کے لئے انگریز کے ساتھ معاملہ کرنے کا ترازو اور ہو اور مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرنے کے لئے اور؟ ہاں اگر مسلمان ہندوستان کے کسی معین حصہ میں علیحدہ طور پر اکثریت کی صورت میں آباد نہ