مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 31 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 31

۳۱ مضامین بشیر مشترک اتحادی نظام قائم کرے یہ پانچ شرطیں جیسا کہ حق وانصاف کا تقاضا ہے یہ ہیں : - اوّل : مذہب کا اختلاف : ظاہر ہے کہ مذہب افراد اور قوموں کی زندگی پر بھاری اثر رکھتا ہے اور خصوصاً مشرقی ممالک میں تو اسے وہ حیثیت حاصل ہے جسے موجودہ زمانہ کے مغربی قوموں کے لوگ غالباً خیال میں بھی نہیں لا سکتے۔پس دوالگ الگ مذہب رکھنے والی قوموں کا ایک نظام میں منسلک ہونا یقیناً اپنے اندر ٹکراؤ کے بہت سے خطرات رکھتا ہے مگر یا درکھنا چاہیئے کہ مذہب کے اختلاف سے محض کسی ضمنی عقیدہ کا اختلاف مراد نہیں بلکہ سیاسی میدان میں صرف وہی مذہبی اختلاف مؤثر سمجھا جا سکتا ہے جو بنیادی امور پر مشتمل ہو اور موٹے طور پر یہ بنیادی امور دو ہیں یعنی الف۔بائی مذہب کا مختلف ہونا اور ب۔مذہبی کتاب کا مختلف ہونا۔پس وہی قوم دوسری قوموں سے الگ ہونے کی حقدار سمجھی جائی گی جس کا مذہبی بانی دوسری قوموں کے مذہبی بانیوں سے اور جس کی مقدس کتاب ” دوسری قوموں کی مقدس کتابوں سے جدا ہے کیونکہ یہ امور ایسے ہیں جن کے متعلق قوموں کا اختلاف نہایت وسیع اور گہرے اثرات رکھتا ہے۔دوم۔تہذیب و تمدن کا اختلاف : یہ اختلاف بھی مذہبی عقائد کے اختلاف کی طرح بہت وسیع الاثر ہے اور جہاں یہ اختلاف موجود ہوں وہاں دو قوموں میں کامل اتحاد کی صورت پیدا نہیں ہوسکتی دراصل جس طرح ایک لوہے کا ٹکڑا دوسرے ٹکڑے کے ساتھ پیوست اور ایک جان ہونے کے لئے اس بات کو چاہتا ہے کہ یہ دونوں ٹکڑے نہ صرف ایک قسم کے لوہے کے ہوں بلکہ دونوں کا درجہ حرارت بھی اپنے کمال میں ایک جیسا ہو۔اسی طرح قوموں کا باہمی اتصال و اتحاد بھی تہذیب کی یکسانیت کا متقاضی ہے اور وہ ملک کبھی بھی اتحاد کی برکتوں سے مستفید نہیں ہو سکتا جس میں دوقو میں مختلف و متضاد تہذیب و تمدن رکھنے والی پائی جائیں۔سوم۔قوموں کی ضروریات کا جدا جدا ہونا : ظاہر ہے کہ اگر ایک قوم کی ضروریات دوسری قوم سے جدا اور مختلف ہیں تو پھر جب تک اس قوم کے لئے کوئی اپنا علیحدہ نظام قائم نہ کیا جائے جو اس کی ضروریات کو بصورت احسن پورا کر سکتا ہو اس وقت تک یہ قوم کبھی بھی دوسری قوم کے سایہ میں پل کر ترقی نہیں کر سکتی۔چہارم۔کسی قوم کا کسی علیحدہ ملک یا ملک کے کسی علیحدہ اور معین اور معقول حصہ میں بصورت اکثریت آباد ہونا۔بعض اوقات ایک ملک میں دو جدا جدا قو میں آباد ہوتی ہیں مگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ملی جلی صورت میں آباد ہوتی ہیں کہ الگ الگ مذہب اور الگ الگ تہذیب و تمدن رکھنے کے باوجود ان کے لئے علیحدہ علیحدہ نظام حکومت کا قیام ناممکن ہوتا ہے۔اور اس صورت میں