مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 425 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 425

۴۲۵ مضامین بشیر پاک اولاد پیدا کرنے کا نسخہ ہر خاوند اور ہر بیوی اس نسخہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے دنیا میں ہر شریف اور ہر دیندار انسان کو پاک اور صالح اولاد پیدا کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔اور طبعاً یہ خواہش ہماری جماعت کے افراد میں زیادہ پائی جانی چاہئیے کیونکہ وہ دینداری اور طہارت کی قدر کو دوسروں کی نسبت بہت زیادہ جانتے اور زیادہ پہچانتے ہیں۔مگر ظاہر ہے کہ کوئی بات محض خواہش سے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کے حصول کے لئے ان روحانی اور جسمانی ذرائع کو اختیار نہ کیا جائے جو خدا کے ازلی قانون میں اس کے لئے مقرر کر دیئے گئے ہیں۔اوپر کے اصول کے ماتحت غور کیا جائے تو اچھی اور پاک اولاد پیدا کرنے کے لئے دو قسم کے اسباب ضروری نظر آتے ہیں۔اوّل وہ اسباب جو بچہ کی پیدائش سے بھی پہلے سے اثر انداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔کیونکہ یہ ثابت ہے کہ بچہ اپنے ماں باپ کے رجحانات اور اخلاق سے حصہ لیتا ہے۔اور دوم وہ اسباب جو بچہ کی پیدائش کے بعد اس کی تعلیم وتربیت وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔مجھے اس جگہ مختصر طور پر صرف پہلی قسم کے اسباب کا ذکر کرنا مد نظر ہے جن کا تعلق زمانہ ماقبل ولادت کے ساتھ ہے۔سو یہ اسباب بھی دو قسم کے ہیں۔اول : وہ اسباب جو ماں باپ یا ان سے بھی پہلے کے آباؤ اجداد کے اخلاق کا نتیجہ ہوتے ہیں کیونکہ اسلامی تعلیم سے پتہ لگتا ہے کہ فطری قومی اور فطری رجحانات کے لحاظ سے بچہ اپنے والدین اور والدین کے آباؤ اجداد کے اخلاق کا وارث بنتا ہے۔چنانچہ جہاں قرآن شریف نے آنحضرت علی کے اخلاق فاضلہ کا ذکر کیا ہے وہاں اس حقیقت کی طرف بھی ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ : وَتَقَلُّبَكَ فِي السُّجِدِينَ MO ۱۲۱ یعنی اے رسول تو نسلاً بعد نسل ایسے لوگوں کی پشتوں میں سے نکلا ہے جو اخلاق کے میدان میں خدا کے بنائے ہوئے قانون پر چلتے رہے ہیں۔بے شک اس آیت کے اور معنی بھی ہیں لیکن اس میں یہ اشارہ بھی ضرور مضمر ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔اور بعض پرانے مفسرین نے بھی اس اشارہ کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔بہر حال یہ مسلم ہے کہ بچہ اپنے اخلاق میں اپنے والدین اور آباؤ اجداد کا ورثہ لیتا