مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 418 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 418

مضامین بشیر ۴۱۸ حقیقی مساوات سے کیا مراد ہے۔بالآخر میں یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں میں نے مساوات کا لفظ استعمال کیا ہے وہاں میری یہ مراد نہیں کہ ہر جہت اور ہر پہلو سے ہر شخص ہر دوسرے شخص کے برابر ہو۔ایسی مساوات صرف کرسی نشین فلسفیوں کے تخیل میں پائی جاتی ہے اور دنیا کے کسی حصہ میں اس کا وجود نہیں ملتا اور نہ ہی نیچر میں اس کی کوئی مثال نظر آتی ہے۔بلکہ مزعومہ مساوات کے سب سے بڑے حامی ملک روس میں بھی اس قسم کی خیالی مساوات کا وجود نہیں پایا جاتا۔پس میں نے جب مساوات کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس سے لغوی مساوات مراد نہیں بلکہ ایسی مساوات مراد ہے کہ جس میں سوسائٹی کے مختلف طبقات میں اتنا فرق نہ پیدا ہونے پائے کہ گویا ایک طبقہ دوسرے طبقہ کے مقابل پر ایک جدا دنیا میں بس رہا ہے۔اور قوم کے مختلف حصوں کے درمیان گویا ایک خلیج پیدا ہو جائے اور اخوت اور ہمدردی اور تمدنی اور سماجی مساوات کے جذبات مفقود ہو جائیں۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہر انسان کے لئے ترقی کرنے کا دروازہ یکساں کھلا ہو۔ورنہ جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں لغوی معنوں میں مساوات تو ایک بالکل خیالی چیز ہے جو نہ روس میں پائی جاتی ہے اور نہ کسی اور جگہ۔اور نہ وہ کہیں پائی جاسکتی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ ہمیں محض عدم مساوات کا احساس رکھنے والے لوگوں کو خواہ مخواہ کمیونسٹ کہہ کہہ کر کمیونسٹ نہیں بنانا چاہیئے۔بلکہ اس بیماری کے اس علاج کو اختیار کرنا چاہیئے۔جسے اسلام پیش کرتا ہے اور جس سے ہماری مقدس کتاب قرآن کریم اور ہمارے مقدس نبی (فداہ نفسی ) کے اقوال بھرے پڑے ہیں۔واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔نوٹ۔میں نے اس مضمون میں کمیونزم کے اصولی نظام پر کوئی جرح نہیں کی۔اور نہ ان اعتراضوں کا ذکر کیا ہے جن سے روسی اشتراکیت کی حقیقت عریاں ہو کر سامنے آجاتی ہے۔کیونکہ یہ اس کا موقع نہیں تھا۔مگر جو دوست چاہیں وہ اس موضوع پر ہمارے لٹریچر کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔اس لٹریچر کے مطالعہ سے انہیں معلوم ہو جائے گا کہ جو چیز اوپر سے اتنی صاف اور دلکش نظر آتی ہے اس کا اندرونہ کتنے بھاری نقصانات اور خطرات سے بھرا ہوا ہے۔( مطبوعہ الفضل ۳۰ /نومبر ۱۹۴۸ء)