مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 394 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 394

۳۹۴ مضامین بشیر نے جس خوشی اور بشاشت اور امتنان کے چہرہ کے ساتھ قرضہ لیا ہو اسی خوشی اور اسی بشاشت اور اسی امتنان کے ساتھ واپس کیا ہو اور افسوس ہے کہ میرا بھی دنیا میں لین دین کے متعلق یہی تجربہ ہوا ہے کہ اکثر لوگ جس چہرہ کے ساتھ قرض لیتے ہیں اس چہرہ کے ساتھ واپس نہیں کرتے۔پس میں اپنے اس نوٹ کے ساتھ اپنے عزیزوں اور دوستوں کو پھر توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ لین دین کے معاملات میں صفائی پیدا کریں اور لوگوں کے حقوق ادا کر کے خدا کے سامنے بھی سرخرو ہوں۔قرضوں کے معاملہ میں صفائی پیدا کرنے کے لئے اصل چیز تو دل کی دیانت اور امانت ہے جس کے بغیر سارے اصول اور ساری شرطیں اور سارے وعدے بیکا رثابت ہوتے ہیں۔لیکن اس جگہ میں ایک خاص بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جسے اگر نیک نیتی سے اختیار کیا جائے تو خدا کے فضل سے بہت سی صورتوں میں سرخروئی اور نیک نامی کا موجب ہو سکتی ہے۔وہ یہ کہ جسطرح ایک انسان اپنی ضرورت کے لئے قرض لیتا ہے اسی طرح وہ اپنے دل میں یہ بھی عہد کرے کہ وہ دوسرے کی ضرورت کا لحاظ کر کے اس کے قرضہ کے واپسی کے لئے بھی قرضہ برداشت کرے گا۔مثلاً اگر زید نے عمر سے کوئی رقم قرض لی ہے اور کسی وجہ سے وہ میعاد پوری ہونے پر اس رقم کو واپس نہیں کر سکتا تو اس کا فرض ہے کہ جس طرح اس نے اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے عمر سے قرض لیا تھا اسی طرح اور اسی توجہ اور اسی کوشش کے ساتھ عمر کی ضرورت کو پورا کرنے اور اس کے قرض کو واپس کرنے کے لئے کسی اور شخص سے قرض لے لے۔مگر افسوس ہے کہ لوگ اپنی ضرورت کے لئے تو دوسروں کے سامنے خوشامد اور لجاجت کے طریق پر ہاتھ پھیلانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور اپنے پیٹ کے دوزخ کو بجھانے کے لئے یا اپنے کاروبار کو ترقی دینے کے لئے دوسروں کے سامنے سوال کا ہاتھ پھیلانے میں شرم محسوس نہیں کرتے مگر اپنے قرض خواہوں کے قرض کی واپسی کے لئے قرضہ برداشت کرنے کی طرف قطعاً توجہ نہیں دیتے۔حالانکہ یہ ایک بہت آسان ساگر ہے جسے اختیار کر کے انسان نہ صرف خود بدنامی سے بچ سکتا ہے اور نہ صرف خدا کے سامنے سرخرو ہو سکتا ہے بلکہ اپنے قرض خواہ بھائی کی ضرورت کو بھی پورا کر کے حقوق العباد کی ادائیگی کا عمدہ نمونہ قائم کر سکتا ہے۔آخر وجہ کیا ہے کہ میں اپنی ضرورت کے لئے تو دوسرے سے ایک سو روپیہ مانگوں لیکن جب اس ایک سو روپے کی واپسی کا وقت آئے تو اس روپے کی واپسی کے لئے کسی تیسرے شخص سے قرض نہ حاصل کروں؟ بلکہ حق یہ ہے کہ اپنی ضرورت کی نسبت قرض خواہ کی ضرورت کو پورا کرنا یقیناً زیادہ قرین انصاف اور زیادہ موجب ثواب ہے۔پس میں اپنے عزیزوں اور دوستوں کو اپنے اس نوٹ کے ذریعہ سے اور اس خدا کا واسطہ دے کر جو ہمارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور جلد یا بدیر ہمیں ان اعمال کا بدلہ دینے والا ہے ، کہتا ہوں کہ وہ