مضامین بشیر (جلد 2) — Page 393
۳۹۳ مضامین بشیر لین دین کی صفائی کا ایک وقتی نسخہ جس طرح اپنی ضرورت کے لئے قرض لیتے ہو اسی طرح قرض اتارنے کے لئے بھی قرض لو میں اپنے متعدد مضامین میں اپنے عزیزوں اور دوستوں کو معاملہ کی صفائی کی طرف توجہ دلا چکا ہوں اور اس بارہ میں یہ حدیث بھی پیش کر چکا ہوں کہ ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ وآلہ علیہ وسلم کو قرض کی صفائی کا اتنا احساس تھا کہ آپ ایسے صحابی کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جو مقروض حالت میں فوت ہوا ہوا اور اس کی جائیداد اس کے قرض کے اتارنے کے لئے کافی نہ ہو۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہمارا رحیم و کریم خدا کچی تو بہ پر اپنے خلاف کئے ہوئے گنا ہوں کو تو معاف کر سکتا ہے اور معاف کرتا ہے لیکن بندوں کے خلاف کئے ہوئے گناہوں اور ان کے غصب شدہ حقوق کو کس طرح معاف کر سکتا ہے۔جب تک یا تو ان بندوں کا حق نہ ادا کیا جائے اور یا خود ان سے معافی حاصل نہ کی جائے۔مگر افسوس ہے کہ دنیا میں اکثر لوگ اس فریضہ کی طرف سے غافل رہتے ہیں۔اور اول تو بلا حقیقی ضرورت کے قرض برداشت کر لیتے ہیں اور پھر واپسی کا نام نہیں لیتے یا مختلف قسم کے بہانوں سے اسے پیچھے ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر واپس بھی کرتے ہیں تو سو دفعہ ٹال ٹال کر اور بسا اوقات بداخلاقی کے جواب دے دے کر واپس کرتے ہیں۔حالانکہ قرضہ کی واپسی میں جہاں روپے کی واپسی شامل ہے وہاں میعاد کے اندر واپس کرنا بھی اس کا ضروری حصہ ہوتا ہے۔اسی لئے اسلام نے ہر قرضہ کے متعلق یہ ضروری قرار دیا ہے کہ اس کی واپسی کے لئے میعاد مقرر ہو اور جب تک یہ دونوں باتیں پوری نہ ہوں یعنی اول یہ کہ قرضہ واپس کیا جائے دوم یہ کہ معیاد مقررہ کے اندر واپس کیا جائے۔اس وقت تک کوئی شخص لین دین کے معاملہ میں دیانت دار نہیں سمجھا جاسکتا سوائے اس کے کہ وہ اپنے سر کو نیچا کر کے قرضہ دینے والے سے مزید مہلت نہ حاصل کرے۔میں نے بسا اوقات حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے منہ سے یہ بات سنی تھی یعنی حضور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے دنیا میں بیشمار لوگوں کے ساتھ واسطہ پڑا ہے مگر میں نے ایک شخص کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا کہ جس