مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 390 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 390

مضامین بشیر ۳۹۰ اے مالک کون و مکاں آؤ مکیں کو لوٹ لو گوٹ دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک یہ کہ کسی کے مال یا جان پر ظلم کے رنگ میں ڈاکہ ڈالا جائے۔یہ گوٹ بدترین گنا ہوں میں سے ہے۔دوسری قسم کی ٹوٹ یہ ہے کہ پاک محبت کی تاروں میں باندھ کر دوسرے کے مال و جان کو اپنا بنا لیا جائے۔ایسی کوٹ انسانی روح کی جلا کے لئے ایک بھاری نعمت ہے۔سوذیل کے اشعار میں اسی قسم کی روحانی کوٹ کا ذکر ہے جس میں اپنے آسمانی آقا کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ آئے اور ہمارے جان و مال کو لوٹ لے جو شروع سے اسی کے ہیں۔لیکن ہم لوگوں نے اپنی کوتاہ نظری یا بے وفائی سے اپنے سمجھ رکھے ہیں۔مگر خیال رہے کہ میں شاعر نہیں ہوں۔اگر فن نظم گوئی کے لحاظ سے کوئی غلطی نظر آئے تو وہ قابل معافی کبھی جائے۔اصل غرض دلی جذبات کا اظہار ہے۔پہلے دو شعروں میں ایک قرآنی آیت کا مفہوم پیش نظر ہے۔خاکسار مرزا بشیر احمد رتن باغ لاہور ۴۸ - ۱۰ - ۳۰ء میری سجدہ گاہ لوٹ لو میری جبیں کو لوٹ لو میرے عمل کو لوٹ لو اور میرے دیں کو لوٹ لو میری حیات وموت کا مالک ہو کوئی غیر کیوں میری ہاں کو لوٹ لو، میری نہیں کو لوٹ لو وطرب میرا سبھی بس ہو تمھارے واسطے روح سرور لوٹ لو، قلب حزیں کو لوٹ لو جب جاں تمہاری ہو چکی پھر جسم کا جھگڑا ہی کیا مرا آسماں تو لٹ چکا اب تم زمیں کو لوٹ لو نانِ جویں کے ماسوا دل میں میرے ہوس نہیں چا ہو تو اے جاں آفریں نان جویں کو لوٹ لو گھر بار یہ مرا نہیں اور میں بھی کوئی غیر ہوں؟ اے مالک کون و مکاں آؤ مکیں کو لوٹ لو ( مطبوعه الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۴۸ء)