مضامین بشیر (جلد 2) — Page 372
مضامین بشیر ۳۷۲ د یعنی اگر جنگ کے دوران میں کسی وقت کا فرصلح کے لئے جھکیں تو اے نبی تم ان کے صلح کے ہاتھ کو قبول کرو اور خدا پر توکل کرو“۔ย یہ ہدایت بھی ایک نہایت ضروری ہدایت ہے کیوں کہ اسلام ایک روحانی اور تبلیغی مذہب ہے اور اگر ایسے مذہب کے پیرو دشمن کی صلح کی پیش کش کو قبول نہ کریں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ تبلیغ کے مواقع کو جنگ کی ظاہری اور مادی شان و شوکت پر قربان کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ جو قوم صلح کے لئے جھکتی ہے وہ اپنے ہاتھ سے خود ہمارے لئے پر امن تبلیغ کا رستہ کھولتی ہے اور اس دروازے کو بند کرنا تبلیغ کے دروازے کو بند کرنے کے مترادف ہے۔حالانکہ تبلیغ کی لڑائی یقیناً تلوار کی لڑائی سے زیادہ اہم اور زیادہ ضروری ہے۔ظاہر ہے کہ جہاد تلوار کا بھی ہو سکتا ہے اور تبلیغ کا بھی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ تبلیغ کا جہاد تلوار کے جہاد سے زیادہ افضل ہے کیونکہ وہ لوگوں کے مسلمان ہونے کا رستہ کھولتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک دفعہ حضرت اسامہ بن زید ایک لڑائی میں ایک مشرک کے مقابل پر آئے اور اس مشرک نے جب اپنے سر پر تلوار گرتی دیکھی تو اپنے آپ کو بے بس پا کر کلمہ شہادت پڑھ دیا۔مگر اسامہ نے اس کی نیت کو مشکوک سمجھتے ہوئے اسے پھر بھی تلوار کی گھاٹ اتار دیا تو اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور جب اسامہ نے یہ عذر پیش کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ڈر کی وجہ سے کلمہ پڑھتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی اور بھی زیادہ ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ فرمایا کہ هَلْ شَفَقْتَ عَنْ قَلِبَهِ یعنی اے اسامہ کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا تھا کہ وہ منافقت کے رنگ میں کلمہ پڑھ رہا ہے۔اسامہ کہتے ہیں کہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اتنے ناراض ہوئے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا اور اس کے بعد اسلام لا تا تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ناراضگی میرے حصہ میں نہ آتی۔پس کم از کم دینی لڑائیوں میں یہ ضروری ہے کہ اگر دشمن کی طرف سے صلح کی پیشکش ہو اور وہ معاندانہ کارروائی کو ترک کر دے تو پھر خواہ ظاہری نتیجہ کچھ ہو ، مسلمانوں کو اس صلح کی پیشکش کو قبول کرنا چاہئے۔۱۱۴ اگر دشمن پر غلبہ حاصل ہو تو ہر حال میں ظلم سے اجتناب کرو اسلام کی آخری تعلیم جو میں اپنے اس مختصر مضمون میں پیش کرنا چاہتا ہوں ، اس بات سے تعلق رکھتی ہے کہ اسلام کسی صورت میں بھی ظلم کو جائز نہیں سمجھتا اور مغلوب دشمن کے حقوق کی بھی حفاظت فرماتا ہے اور اس بات کی تاکیدی ہدایت دیتا ہے کہ ہر قسم کے ظلم سے پر ہیز کرو۔یعنی عورتوں کو قتل نہ