مضامین بشیر (جلد 2) — Page 357
۳۵۷ مضامین بشیر اس کے بعد فسادات کے نقصان کے علاوہ جو کم و بیش سب کے لئے برابر تھا، ان کے بڑے لڑکے مرزا احمد شفیع بی۔اے مرحوم نے قادیان میں ہند و پولیس کے ہاتھوں جام شہادت پیا اور اب ہے۔بالآخر امریکہ سے یہ تار آئی ہے کہ ان کا چھوٹا اور آخری لڑکا بھی سفر آخرت پر روانہ ہو گیا۔دنیا میں صدمے آتے ہیں اور بڑے بڑے صدمے بھی آتے ہیں مگر ایسا صدمہ غالباً بہت کم گذرا ہوگا کہ ایک ضعیف العمر عورت نے سب سے پہلے اپنا بڑا لڑکا کھویا ( یا شاید پایا کیونکہ اگر وہی ان کے لئے فرط بن جائے تو کھونے کی نسبت پایا کا لفظ زیادہ صحیح رہے گا ) اس کے بعد اس کی عدم موجودگی میں اس کا عمر بھر کا نیک اور نہایت وفا دار رفیق اس جہان سے رخصت ہوا۔اس کے بعد اس نے ایک ایسے داماد کا صدمہ دیکھا جس کی نیکی اور سعادت پر آئندہ نسلیں بجا طور پر فخر کریں گی۔اس کے بعد وہ لٹ لٹا کر پاکستان پہنچی اس کے بعد اسے یہ اطلاع ملی کہ اس کا دوسرا بیٹا ہند و ظالموں کے ہاتھوں قادیان میں شہید ہو گیا۔اور اب بالآخر اس کے کانوں میں یہ آواز پہنچی ہے کہ اس کا تیسرا اور آخری بیٹا بھی امریکہ میں خدا کو پیارا ہوا۔یہ کوئی صدمہ سا صدمہ ہے کہ خاوند بھی آنکھوں سے اوجھل فوت ہوا ، بڑا لڑکا بھی آنکھوں سے اوجھل فوت ہوا اور اب چھوٹا لڑکا بھی لاہور سے بارہ ہزار میل پر اپنا آخری سانس لے کر خدا کے حضور پہنچ گیا۔گویا وہ دنیا کی جھولی جھاڑ کر بالکل خالی ہو بیٹھی ہیں مگر حق وہی ہے جو خدا نے فرمایا کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ یقیناً یہ بڑی تلخ قاشیں ہیں، جو اس بزرگ خاتون کو خدائی تقدیر کے ہاتھوں آخری عمر میں کھانی پڑیں لیکن اگر وہ خدا کی خاطر ہاں ان نعمتوں کے دینے والے کی خاطر صبر کریں اور خدا کی تقدیر پر راضی ہوں تو پھر انشاء اللہ ان کا اجر بھی بہت بھاری ہوگا۔ہما را خدا رحیم ہے بڑا رحیم ہے اور یقیناً اسکی رحمت ہر دوسری چیز پر غالب ہے۔اگر وہ ایک ہاتھ سے کوئی چیز لیتا ہے تو دوسرے ہاتھ سے اس سے بڑھ کر دیتا ہے اور اگر اسکی کسی بار یک دربار یک حکمت سے اس کے کسی بندے کو دُنیا میں کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اس کی رحمت اس دکھ سے کئی گنے بڑی رحمت اس کے لئے آخرت میں ریزرو کر لیتی ہے۔اور آخرت کی لامحدود زندگی کے مقابل پر دنیا کی چند سالہ زندگی کیا حقیقت رکھتی ہے؟ اور پھر آخرت کی زندگی بھی وہ ہے جہاں سب نیک عزیزوں نے خدا کی ابدی رحمت کے آغوش میں جمع ہو جانا ہے۔میں حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی اس بات کو کبھی نہیں بھولا ، اور نہ بھول سکتا ہوں کہ جب ان کا ایک لڑکا محمد فوت ہو گیا اور یہ ان کا اکلوتا لڑکا تھا۔جس سے پہلے سب لڑکے فوت ہو چکے تھے اور خود حضرت خلیفہ اول گویا آخری عمر کو پہنچ چکے تھے جس کے بعد مزید اولاد کی بہت کم امید رہ جاتی